سیول: جنوبی کوریا کے ایک کنٹینر جہاز نے آرکٹک سمندری راستے کے ذریعے یورپ تک اپنا تجرباتی سفر کامیابی سے مکمل کر لیا ہے، جسے کوریا کی حکومت نے سمندری تجارت کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ تاہم اس اقدام نے ماحولیاتی اور جغرافیائی سیاسی خدشات کو بھی جنم دیا ہے۔
پان اسٹار ایکرو کی واپسی
وزارت بحریات و ماہی گیری کے مطابق، کنٹینر جہاز “پان اسٹار ایکرو” اتوار گیارہ اکتوبر کو بوسان کی بندرگاہ پر واپس پہنچ گیا۔ یہ جہاز 22 اگست کو بوسان سے روانہ ہوا تھا اور شمالی سمندری راستے (NSR) کے ذریعے آرکٹک سے گزرتے ہوئے یورپ پہنچا۔
یورپی بندرگاہوں پر توقف
جہاز نے اپنے سفر کے دوران برطانیہ کی بندرگاہ فیلکس اسٹو، نیدرلینڈز کی روٹرڈیم اور پولینڈ کی گڈانسک میں توقف کیا۔ اس کے بعد یہ اسی راستے سے واپس جنوبی کوریا پہنچا، اس طرح اس نے مکمل آمد و رفت کا سفر طے کیا۔
سوئز کینال کے مقابلے میں دس دن کی بچت
جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے اس سفر کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس راستے نے سوئز کینال کے روایتی راستے کے مقابلے میں سفر کے وقت میں دس دن کی کمی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تجربے سے قطبی پانیوں میں جنوبی کوریائی کنٹینر جہاز چلانے کا قیمتی تجربہ حاصل ہوا اور نیویگیشن کا ڈیٹا بھی جمع کیا گیا۔
مشرق وسطیٰ تنازعے کے تناظر میں اہمیت
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعے کی وجہ سے عالمی سمندری تجارت متاثر ہو رہی ہے۔ آرکٹک راستہ ایشیا اور یورپ کے درمیان متبادل اور مختصر سمندری راستہ فراہم کر سکتا ہے، جس کی طرف عالمی تجارتی بحری بیڑے کی توجہ بڑھ رہی ہے۔
ماحولیاتی اور جغرافیائی سیاسی خدشات
تاہم اس اقدام پر تشویش بھی ظاہر کی جا رہی ہے۔
- سمندری ٹریفک میں اضافہ آرکٹک میں برف پگھلنے کے عمل کو تیز کر سکتا ہے۔
- یہ راستہ روس کے شمالی ساحل کے ساتھ سے گزرتا ہے، جس سے آپریٹرز بین الاقوامی پابندیوں سے متعلق خطرات کا شکار ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق آرکٹک سمندری راستے کی تجارتی عملداری میں اضافہ طویل مدتی ماحولیاتی اثرات اور علاقائی جغرافیائی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
