اقوام متحدہ کے ماہرین نے پیر کو خبردار کیا ہے کہ سوڈان کے متعدد علاقوں میں قحط کا خطرہ شدت اختیار کر رہا ہے، جہاں مسلح تنازعات کے ساتھ ساتھ ایل نینو کے باعث پیدا ہونے والی خشک سالی نے پہلے سے تباہ کن حالات کو مزید خراب کر دیا ہے۔
غذائی تحفظ کی صورتحال مزید بگڑ گئی
اقوام متحدہ کے تعاون سے قائم کردہ انٹیگریٹڈ فوڈ سیکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن (آئی پی سی) کے مطابق، پہلے سے متاثرہ بیشتر علاقوں کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے، جبکہ نئے اعداد و شمار دیگر مقامات پر شدید غذائی قلت میں اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ یہ ادارہ عالمی سطح پر بھوک اور غذائی قلت کا جائزہ لیتا ہے۔
ماہرین کے مطابق، تباہ کن بگاڑ کی علامات مسلسل بڑھ رہی ہیں، لیکن انسانی امدادی سرگرمیاں شدید مالی قلت، عدم تحفظ اور رسائی کی رکاوٹوں کے باعث مزید محدود ہوتی جا رہی ہیں۔
جنوبی دارفور میں صورتحال سنگین
- جنوبی دارفور میں سروے رپورٹس کے مطابق، خاص طور پر اندرونی طور پر بے گھر ہونے والے افراد کی صورتحال مزید بگڑ گئی ہے۔
- شمالی دارفور میں بھی شدید غذائی عدم تحفظ برقرار ہے، جہاں بارش میں تاخیر نے فصلوں کو تباہ کن نقصان پہنچایا۔
- بہت سے بے گھر کسان اپنی پیداوار کے بجائے منڈیوں پر انحصار کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
صحت اور پینے کے پانی کا بحران
عالمی ادارہ صحت کے مطابق، صحت کی سہولیات انتہائی محدود اور اکثر مکمل طور پر ناقابل رسائی ہیں، جبکہ پینے کا صاف پانی تیزی سے کمیاب ہوتا جا رہا ہے۔ اس صورتحال نے غذائی قلت کا شکار آبادی کو بیماریوں اور اموات کے خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے دونوں اداروں نے مطالبہ کیا ہے کہ لڑائی فوری بند کرائی جائے، انسانی امداد کو تقویت دی جائے اور جنگ زدہ ملک کے لیے طویل مدتی مالی معاونت کو یقینی بنایا جائے۔
