ممبئی: بالی ووڈ اداکارہ تنوشری دتہ نے سنگین الزام عائد کیا ہے کہ اداکار نانا پاٹیکر نے 2018 کی #MeToo تحریک کے دوران راکھی ساونت کو ان کی بدنامی کے لیے ڈھائی لاکھ روپے ادا کیے تھے۔
انسٹاگرام پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں تنوشری دتہ نے دعویٰ کیا کہ راکھی ساونت کو ان کے خلاف پریس کانفرنس کرنے سے دو دن قبل نانا پاٹیکر کی ممبئی رہائش گاہ سے 200,000 سے 250,000 روپے نقد وصول ہوئے۔
تنوشری دتہ کا دعویٰ
اداکارہ کے مطابق، یہ معلومات انہیں راکھی ساونت کی قریبی دوست راجشری مور نے فراہم کیں۔ تنوشری نے بتایا کہ اس وقت وہ ذہنی دباؤ کا شکار تھیں اور ان کے خلاف لگائے گئے الزامات نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کیا۔
واضح رہے کہ راکھی ساونت یا راجشری مور نے اب تک ان الزامات پر عوامی سطح پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔
پس منظر
یاد رہے کہ 2018 میں تنوشری دتہ نے نانا پاٹیکر پر ہراسانی کے الزامات عائد کیے تھے، جس کے بعد راکھی ساونت نے ان کے خلاف پریس کانفرنس کی تھی۔ تنوشری دتہ کا یہ تازہ بیان اس معاملے کو ایک بار پھر تنازعے کی زد میں لا کھڑا کرتا ہے۔
- تنوشری دتہ نے نانا پاٹیکر پر راکھی ساونت کو رقم دینے کا الزام لگایا
- دعویٰ کے مطابق رقم پریس کانفرنس سے دو دن قبل ادا کی گئی
- معلومات راجشری مور سے حاصل ہونے کا انکشاف
- راکھی ساونت اور راجشری مور کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا
