فرانس کے شہر ڈجون کے ایک ہائی اسکول میں پڑھانے والی استانی کو اس وقت عارضی طور پر معطل کر دیا گیا جب انہوں نے اپنی کلاس کے ساتھ مل کر غزہ کے متاثرین کے لیے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔ یہ واقعہ 25 مارچ کو پیش آیا اور تعلیمی بورڈ نے 31 مارچ سے ان کی معطلی کا فیصلہ کیا۔
ڈجون کا تعلیمی بورڈ کہتا ہے کہ استانی نے “غیر جانبداری کے اصول” کی خلاف ورزی کی ہے، کیونکہ اساتذہ کو کلاس میں سیاسی یا متنازع معاملات سے دور رہنا چاہیے۔
دوسری جانب، اساتذہ کی تین بڑی یونینز (سود ایجوکیشن، سی جی ٹی، ایف این ای سی ایف پی ایف او) اور ایک سیاسی جماعت “لا فرانس انسومیس” نے اس فیصلے کی مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ خاموشی طلبہ کی خواہش پر کی گئی تھی، کیونکہ وہ غزہ پر حملوں سے متاثر تھے۔
اس بات پر دونوں فریق متفق ہیں کہ استانی نے ان طلبہ کو کلاس سے باہر جانے کی اجازت دی تھی جو اس خاموشی میں شامل نہیں ہونا چاہتے تھے۔
لا فرانس انسومیس نے مطالبہ کیا ہے کہ استانی کو فوراً واپس بلایا جائے اور ان کے خلاف کارروائی ختم کی جائے۔
اس وقت تک یہ واضح نہیں کہ معطلی کب تک جاری رہے گی۔
