واشنگٹن — صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت مڈٹرم انتخابات سے صرف چھ ہفتے قبل اپنی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، جس نے ریپبلکن پارٹی میں تشویش کی لہر پیدا کر دی ہے۔ سی این این کے تازہ سروے کے مطابق صرف 33 فیصد امریکیوں کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ اچھا کام کر رہے ہیں، جبکہ محض 13 فیصد ان کی کارکردگی کو “بہت اچھا” قرار دیتے ہیں۔
معیشت: ووٹروں کی سب سے بڑی تشویش
سروے کے نتائج کے مطابق معیشت وہ مرکزی موضوع ہے جس نے ووٹروں کی ناراضی کو جنم دیا ہے۔ صرف 27 فیصد امریکی ٹرمپ کی معاشی پالیسیوں کی حمایت کرتے ہیں، جو 2018 کے مڈٹرم انتخابات کے مقابلے میں 22 پوائنٹس کی کمی ظاہر کرتا ہے۔
اس سے بھی زیادہ تشویشناک اعداد و شمار یہ ہیں کہ صرف 28 فیصد امریکیوں کا ماننا ہے کہ ملک کی معیشت اچھی حالت میں ہے۔ چھ سال قبل یہ تناسب 69 فیصد تھا، جو 41 پوائنٹس کی زبردست گراوٹ کو ظاہر کرتا ہے۔
معیشت ووٹروں کے لیے کوئی معمولی مسئلہ نہیں۔ دو تہائی ووٹرز اسے “انتہائی اہم” موضوع قرار دیتے ہیں، جو گزشتہ دو مڈٹرم انتخابات کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ مزید برآں، امریکی ووٹرز معیشت کے معاملے میں ڈیموکریٹس کے موقف سے ریپبلکنز کے مقابلے میں زیادہ اتفاق رکھتے ہیں۔
ٹرمپ کے خلاف احتجاجی ووٹ کی توقع
سروے کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ یہ مڈٹرم انتخابات ووٹروں کے لیے ٹرمپ کے دورِ صدارت کے پہلے نصف حصے کے خلاف احتجاج کا موقع بنیں گے۔ 44 فیصد رجسٹرڈ ووٹرز کا کہنا ہے کہ ان کا ووٹ ٹرمپ کے دورِ حکومت کے خلاف احتجاجی پیغام ہوگا، جبکہ صرف 19 فیصد ان کی حمایت میں ووٹ ڈالیں گے۔
یہ صورتحال اس وقت مزید دلچسپ ہو جاتی ہے جب یاد رکھا جائے کہ ٹرمپ نے ایک جلسے میں عوام سے ریپبلکن امیدواروں کو ووٹ دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اپنے ووٹ کو ان کے نام کا ریفرنڈم سمجھیں۔
معاشی چیلنجز اور ووٹروں کی ناراضی
مہنگائی اگست میں 3.40 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جس نے عام امریکیوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق ووٹرز حکمران جماعت کی ان پالیسیوں سے نالاں ہیں جو ان کے روزمرہ مسائل خصوصاً قوت خرید اور ایندھن کی قیمتوں سے متعلق ہیں۔
ووٹروں کی بڑی تعداد حکومت کی معاشی پالیسیوں کو غیر سنجیدہ اور عوام کے مسائل سے لاتعلق سمجھتی ہے، جو ریپبلکن امیدواروں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔
ڈیموکریٹس کے لیے امید کی کرن
سروے کے نتائج ڈیموکریٹس کے لیے خوش آئند ہیں۔ 41 سے 49 فیصد ووٹرز ریپبلکن کے بجائے ڈیموکریٹ امیدوار کی حمایت کا ارادہ رکھتے ہیں۔ کئی امیدواروں نے ٹرمپ کی شبیہ سے فاصلہ اختیار کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ شہریوں کو اپنی طرف مائل کر سکیں۔
تاہم، ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ بہت سے ووٹرز کانگریس کی ڈیموکریٹس کے حوالے کرنے کے بارے میں بھی شکوک کا شکار ہیں، جو دونوں جماعتوں کے لیے ایک غیر یقینی صورتحال کو ظاہر کرتا ہے۔
ووٹروں کی ترجیحات
سروے ووٹروں کی اہم ترجیحات کے بارے میں بھی اہم اشارے فراہم کرتا ہے۔ معیشت کے علاوہ، دیانت داری، انتخابی قواعد کا احترام اور صحت کی انشورنس وہ اہم موضوعات ہیں جو 3 نومبر کو ہونے والے انتخابات میں امریکی ووٹروں کے لیے اہمیت رکھتے ہیں۔
واضح رہے کہ یہ انتخابات ٹرمپ کے دورِ صدارت کے پہلے دو سالوں کا جائزہ لینے کا موقع فراہم کریں گے اور اس کے نتائج 2028 کے صدارتی انتخابات کے لیے سیاسی زمین ہموار کریں گے۔
