روس یوکرین تنازع: ٹرمپ کی مبینہ دباؤ کی حکمت عملی
ماسکو: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یوکرین کی فوجی امداد کو معطل کرنے کی خبریں سامنے آئی ہیں، جس کا مقصد مبینہ طور پر یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی کو جنگ بندی کے لیے دباؤ ڈالنا بتایا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق ٹرمپ کی یہ حکمت عملی واشنگٹن میں شدید تنقید کا نشانہ بن رہی ہے، جبکہ زیلنسکی کو لندن میں پذیرائی مل رہی ہے۔ امریکی سیاستدانوں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا یہ قدم یوکرین کو روس کے سامنے کمزور کرنے کے مترادف ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، موجودہ حالات میں یوکرین کی صورتحال زیادہ نازک ہو چکی ہے۔ ٹرمپ اور زیلنسکی کے درمیان ہونے والی کشیدگی نے یوکرین کی پوزیشن کو مزید کمزور کر دیا ہے۔
اس دوران روسی میڈیا اور قوم پرست حلقوں نے اس صورتحال کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے زیلنسکی کو “مسخرہ” کہنے پر انہیں خوشی ہوئی ہے۔
متعدد ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور یورپ یوکرین کی مدد کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں، تاہم ٹرمپ کی پالیسیاں اس تعاون کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
یوکرینی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ روسی پروپیگنڈا کو ٹرمپ کے بیانات سے تقویت مل رہی ہے، جو کہ یوکرین کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔
اس صورتحال میں یوکرین کی عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے، خاص طور پر جب زیلنسکی کو وائٹ ہاؤس میں “ذلت” کا سامنا کرنا پڑا۔ یوکرین کے عوام اور سیاستدانوں کی نظر میں یہ ایک مشکل وقت ہے، جس میں بین الاقوامی حمایت کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
