واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی جانب سے دو ماہ پرانی جنگ کے خاتمے کے لیے پیش کی گئی تازہ تجویز سے خوش نہیں ہیں، جس نے تنازع کے حل کی امیدوں کو کم کر دیا ہے۔ ایک امریکی اہلکار کے مطابق، ٹرمپ اس تجویز سے اس لیے ناخوش ہیں کہ اس میں ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت کو جنگ کے خاتمے تک مؤخر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
تجویز کے اہم نکات
ایرانی ذرائع کے مطابق، تہران کی تازہ تجویز میں کہا گیا ہے کہ جوہری مسئلے پر بات چیت اس وقت تک ملتوی رکھی جائے جب تک جنگ ختم نہیں ہو جاتی اور خلیج سے جہاز رانی کے تنازعات حل نہیں ہو جاتے۔ تاہم، امریکہ کا موقف ہے کہ جوہری مسائل پر شروع سے ہی بات چیت ہونی چاہیے۔
امریکی ردعمل
وائٹ ہاؤس کی ترجمان اولیویا ویلز نے کہا کہ امریکہ “پریس کے ذریعے مذاکرات نہیں کرے گا” اور اس نے “اپنی ریڈ لائنز واضح کر دی ہیں”۔ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے خلاف فروری میں اسرائیل کے ساتھ مل کر شروع کی گئی جنگ کو ختم کرنا چاہتی ہے۔
ماضی کا تناظر
ایران اور متعدد دیگر ممالک کے درمیان 2015 میں ہونے والے جوہری معاہدے نے ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کر دیا تھا، جسے تہران طویل عرصے سے پرامن اور شہری مقاصد کے لیے قرار دیتا رہا ہے۔ تاہم، ٹرمپ نے اپنی پہلی مدت میں اس معاہدے سے یکطرفہ طور پر دستبرداری اختیار کر لی تھی۔
مذاکرات کی کوششیں
امن کی کوششوں کو اس وقت دھچکا لگا جب ٹرمپ نے اپنے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکاف اور داماد جیرڈ کشنر کا اسلام آباد کا منصوبہ بند دورہ منسوخ کر دیا، جہاں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ہفتے کے روز دو بار دورہ کیا تھا۔ عراقچی نے عمان اور روس کا بھی دورہ کیا، جہاں انہوں نے صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کی اور ایک دیرینہ اتحادی کی حمایت حاصل کی۔
تیل کی قیمتوں میں اضافہ
جنگ بندی کے امکانات کم ہونے کے ساتھ، تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مارکیٹ تجزیہ کار فواد رضاقادہ نے کہا کہ “تیل کے تاجروں کے لیے اب بیانات نہیں بلکہ آبنائے ہرمز سے خام تیل کی اصل جسمانی ترسیل اہم ہے، اور فی الحال یہ ترسیل محدود ہے۔”
ایرانی جہازوں کی واپسی
شپ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق، امریکی ناکہ بندی کی وجہ سے ایران سے تیل لے جانے والے کم از کم چھ ٹینکرز کو واپس ایران جانے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے امریکی کارروائیوں کو “سمندری ڈکیتی اور مسلح ڈکیتی کی کھلی قانونی حیثیت” قرار دیا ہے۔
آبنائے ہرمز کی صورتحال
کپلر شپ ٹریکنگ ڈیٹا اور سین میکس کی سیٹلائٹ تجزیہ کے مطابق، جنگ سے پہلے روزانہ 125 سے 140 جہاز آبنائے ہرمز سے گزرتے تھے، لیکن گزشتہ روز صرف سات جہاز گزرے ہیں، اور ان میں سے کوئی بھی عالمی منڈی کے لیے تیل نہیں لے جا رہا تھا۔
مرحلہ وار مذاکرات کی تجویز
ایرانی عہدیداروں کے مطابق، عراقچی کی اسلام آباد میں پیش کردہ تجویز میں مرحلہ وار مذاکرات کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں ایران پر امریکی اسرائیلی جنگ کے خاتمے اور اس بات کی ضمانت کی ضرورت ہوگی کہ امریکہ اسے دوبارہ شروع نہیں کر سکتا۔ اس کے بعد مذاکرات کار امریکی بحریہ کی ناکہ بندی اور آبنائے ہرمز کے مستقبل پر بات کریں گے۔ اس کے بعد ہی جوہری پروگرام کے تنازع پر بات چیت ہوگی۔
