مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے جہاں امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کر دی ہے۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ایک ہزار سے زائد انفراسٹرکچر کو تباہ کر دیا ہے، جبکہ ایران نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ وہ اب دوسری قوموں پر پالیسی مسلط کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہا۔
اسرائیل کا لبنان میں بھاری حملہ
اسرائیلی فوج کے مطابق، اس کی بریگیڈ ‘بسلماخ’ نے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جس میں بارودی سرنگوں سے بھری عمارتیں اور اسلحہ ڈپو شامل ہیں۔ فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے سینکڑوں ہتھی ضبط کیے ہیں، جن میں مشین گنیں، کلاشنکوف رائفلیں، گرینیڈز، بارودی سرنگیں، پستول، اینٹی ٹینک میزائل، راکٹ اور مارٹر گولے شامل ہیں۔
اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے شہر بنت جبیل میں بھاری مشین گنوں سے فائرنگ کی اور زوتار الشرقیہ قصبے پر فضائی حملے کیے۔ دوسری طرف، حزب اللہ نے ڈرون حملوں میں دو اسرائیلی فوجیوں کو زخمی کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جن میں سے ایک کی حالت شدید بتائی جاتی ہے۔
ایران کا امریکہ کو سخت پیغام
ایران کے وزیر دفاع کے ترجمان رضا تالائی نک نے کہا ہے کہ امریکہ اب دوسری آزاد قوموں پر اپنی پالیسی مسلط کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہا۔ انہوں نے کہا، “واشنگٹن کو قبول کرنا ہوگا کہ اسے اپنے غیر قانونی اور غیر معقول مطالبات ترک کرنے ہوں گے۔”
ایران کے نائب وزیر دفاع نے شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے اجلاس میں اعلان کیا کہ ایران اپنی دفاعی صلاحیتیں ایشیائی شراکت داروں، خاص طور پر SCO کے ارکان کے ساتھ شیئر کرنے کو تیار ہے۔
آسٹریلیا کا خبردار: ایران جنگ کا ایشیا پر غیر متناسب اثر
آسٹریلوی وزیر خارجہ پینی وونگ نے ٹوکیو میں جاپانی ہم منصب سے ملاقات کے بعد کہا کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کا ایشیا پیسیفک خطے پر “غیر متناسب اثر” پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی مؤثر بندش کے بعد ان کی معیشتوں پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
پاکستان کا سفارتی کردار سراہا گیا
ایران کے پاکستان میں سفیر رضا امیری مقدم نے ڈپٹی وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور پاکستان کی وزارت خارجہ کے سفارتی کردار کو سراہا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر کہا کہ سفارت کار “امن کے معمار” ہیں اور پاکستانی سفارت کاروں کی پیشہ ورانہ مہارت اور لگن نے سیاسی خواہش کو عملی صورت دی۔
برطانوی توانائی کمپنی کے منافع میں اضافہ
برطانوی توانائی کمپنی بی پی نے پہلی سہ ماہی میں خالص منافع میں زبردست اضافہ ریکارڈ کیا ہے، جو 687 ملین ڈالر سے بڑھ کر 3.8 ارب ڈالر ہو گیا ہے۔ اس کی وجہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ بتایا جا رہا ہے۔
سفارتی پیشرفت
ادھر ایران نے امریکہ کو مذاکرات کے لیے ایک نئی تجویز پیش کی ہے، جبکہ پاکستان نے ثالثی کے ذریعے سفارتی مذاکرات کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ایران کے سفیر نے خاص طور پر پاکستانی وزارت خارجہ کی تعریف کی کہ انہوں نے وفود اور مذاکرات کے انتظامات کو بہت احتیاط سے تیار کیا۔
مشرق وسطیٰ کی یہ جنگ عالمی معیشت اور خطے کے امن کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہی ہے، اور بین الاقوامی برادری اس بحران کے پرامن حل کے لیے کوشاں ہے۔
