پینٹاگون نے یوکرین کی نیٹو میں شمولیت کے حوالے سے جاری بیانات میں اسے “غیر حقیقت پسندانہ” قرار دیا ہے۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب یوکرین کی حکومت نے نیٹو کی رکنیت کے حصول کے لیے اپنی کوششوں کو تیز کر دیا ہے۔ امریکی دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ سیکیورٹی حالات اور خطے کی جغرافیائی صورتحال کی روشنی میں ایسا ممکن نہیں ہے۔
پینٹاگون کے ترجمان نے اس حوالے سے تشویش کا اظہار کیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ نیٹو میں شمولیت کے لیے کئی معیارات پورے کرنا ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قبل ازیں نیٹو کی رکنیت کے لیے جو شرائط رکھی گئی تھیں، ان کا پورا ہونا بہت ضروری ہے، خاص طور پر اس وقت جب یوکرین ایک غیر مستحکم جنگی حالت میں ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب یوکرین نے نیٹو کے ساتھ اپنی روابط کو مزید مستحکم کرنے کے لیے کوششیں کی ہیں۔ اس نے حال ہی میں نیٹو کے کئی اجلاسوں میں شرکت کی ہے اور اتحادی ممالک سے حمایت کی اپیل کی ہے۔
دوسری جانب یورپی رہنماوں نے بھی اس معاملے پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے اور انہوں نے یوکرین کی جنگ میں جاری چیلنجز کا ذکر کیا ہے۔ یورپی کمیشن کے صدر نے اس بات پر زور دیا کہ یوکرین کی نیٹو میں شمولیت کے لیے مزید وقت درکار ہوگا، کیونکہ حالات ابھی تک معمول پر نہیں آئے ہیں۔
اس ساری صورتحال کے بیچ، یوکرین کی حکومت نے اپنی فورسز کو مضبوط بنانے اور اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے نئے اقدامات کا اعلان کیا ہے، تاکہ وہ نیٹو کی رکنیت کے لیے درکار معیارات کو پورا کر سکے۔ لیکن پینٹاگون کی جانب سے دی جانے والی یہ نئی معلومات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ نیٹو میں شمولیت کا خواب ابھی دور ہے۔
