تجارتی معاہدے کی شرط: روسی تیل سے انحراف
نئی دہلی: امریکہ نے بھارت کو روسی خام تیل کے متبادل ذرائع فراہم کرنے کے لیے وینزویلا کے تیل کی فروخت پر “فعال مذاکرات” کا اعلان کیا ہے۔ امریکی ایلچی سرجیو گور کے مطابق، امریکہ نے بھارت سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر محصولات میں کمی کی شرط روسی تیل سے انحراف کو بنایا ہے۔
انٹرم ٹریڈ ڈیل اور شرائط
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ماہ بھارتی مصنوعات پر محصولات 18 فیصد تک کم کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ یہ فیصلہ اس شرط پر کیا گیا کہ بھارت روسی تیل کی خریداری بند کرے، جسے امریکہ یوکرین پر روسی حملے کی مالی معاونت قرار دیتا ہے۔ گور کا کہنا تھا کہ بھارت اب امریکہ اور ممکنہ طور پر وینزویلا سے زیادہ تیل خریدے گا۔
توانائی محکموں کے درمیان بات چیت
امریکی ایلچی نے نئی دہلی میں ایک تقریب کے موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، “محکمہ توانائی یہاں وزارت توانائی سے بات چیت کر رہا ہے، اور ہمیں امید ہے کہ اس بارے میں جلد ہی کچھ خبریں ملیں گی۔” یہ تقریب پیکس سلیکا اقدام سے بھارت کے الحاق کے موقع پر منعقد ہوئی، جس کا مقابق ہائی ٹیک مصنوعات کے لیے سلیکون سپلائی چین بنانا ہے۔
حتمی معاہدے کی راہ ہموار
گور کے مطابق، بھارت کے ساتھ حتمی تجارتی معاہدہ “جلد از جلد” طے پا جائے گا، جس کے لیے چند نکات پر توجہ درکار ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے صدر ٹرمپ کو بھارت آنے کی دعوت دی ہے۔ بھارتی وزیر تجارت پیوش گویل نے جمعے کو کہا کہ انٹرم تجارتی معاہدہ اپریل سے مؤثر ہوگا، اور امریکہ اس ماہ بھارتی مصنوعات پر محصولات کم کرنے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کرے گا۔
وینزویلا کے تیل کی مارکیٹنگ
روئٹرز کی رپورٹس کے مطابق، امریکہ نے گزشتہ ماہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری اور عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز کے ساتھ سپلائی معاہدے کے بعد تجارتی اداروں وِٹول اور ٹریفِگورا کو وینزویلا کے لاکھوں بیرل تیل کی مارکیٹنگ اور فروخت کی اجازت دی تھی۔ اس اقدام کے بعد بھارتی ریفائنریوں نے وینزویلا کے تیل کے آرڈر دینا شروع کر دیے ہیں۔
بھارتی ریفائنریوں کی دلچسپی
ریاستی اداروں انڈین آئل کارپوریشن، ہندوستان پیٹرولیم اور بھارت پیٹرولیم کے علاوہ پرائیویٹ سیکٹر کی ریفائنریز ریلائنس انڈسٹریز اور ایچ پی سی ایل-مٹل انرجی نے بھی وینزویلا کے تیل کے آرڈر دیے ہیں۔ یہ اقدام بھارت کی تیل کی درآمدات میں تنوع لانے کی امریکی کوششوں کا حصہ ہے۔
امریکی پوزیشن واضح
گور نے واضح کیا، “تیل کے معاملے پر ایک معاہدہ ہو چکا ہے… ہم نے بھارت کو اپنے تیل کے ذرائع میں تنوع لاتے دیکھا ہے۔ یہ عہد موجود ہے۔ یہ معاملہ صرف بھارت کا نہیں ہے۔ امریکہ نہیں چاہتا کہ کوئی بھی روسی تیل خریدے۔” روس پر 2022 میں یوکرین پر حملے کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے پابندیاں عائد کی تھیں، جس کے بعد بھارت روسی بحری تیل کا سب سے بڑا گاہک بن گیا تھا۔
