خطے میں تازہ ترین جنگی صورت حال
وسطی مشرق میں جنگ کی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے جنوبی لبنان کا دورہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی افواج نے حزب اللہ کی جانب سے ممکنہ حملے کے خطرے کو ختم کر دیا ہے۔ اُن کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب لبنان، اسرائیل اور امریکہ کے نمائندوں کے درمیان واشنگٹن میں براہ راست مذاکرات ہونے والے ہیں۔
دوسری جانب، لبنانی وزیر اعظم نواف سلام نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل-حزب اللہ جنگ کو روکنے اور اسرائیلی فوجیوں کی واپسی کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ لبنانی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں میں اتوار کے روز کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوئے، جبکہ جنگ میں ہلاکتوں کی کل تعداد 2,055 تک پہنچ گئی ہے۔
امن مذاکرات میں پاکستان کا کردار
ایران کے سفیر ریضا امیری مغددم نے اسلام آباد میں ہونے والے امریکہ-ایران مذاکرات کو ایک ‘عمل’ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بات چیت ایک وسیع تر سفارتی عمل کا آغاز ہے۔ اُنہوں نے پاکستان کی حکومت اور فوجی اداروں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ مذاکرات باعزت اور پرامن ماحول میں ہوئے۔
ترک وزیر خارجہ نے بھی امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کو فروغ دینے میں پاکستان کے کردار کی تعریف کی ہے۔ اسی دوران، پاکستان کے نائب وزیر اعظم اسد در نے مصر کے وزیر خارجہ کو اسلام آباد مذاکرات کے حوالے سے بریفنگ دی۔
ایران کی جانب سے واضح انتباہ
ایران کے انقلابی گارڈز نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہرمز آبنائے کے قریب آنے والے کسی بھی فوجی جہاز کو دو ہفتے کے امریکی جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا اور اس پر سخت ردعمل دیا جائے گا۔ تنظیم کے مطابق آبنائے ایران کی بحریہ کے کنٹرول میں ہے اور یہ غیر فوجی جہازوں کے لیے محفوظ راستہ ہے۔
لبنان میں اقوام متحدہ کی فورس پر واقعہ
لبنان میں اقوام متحدہ کی عبوری فورس (UNIFIL) نے کہا ہے کہ اسرائیلی ٹینک نے اتوار کے روز امن فوجی گاڑیوں سے ٹکر ماری، جس سے ایک گاڑی کو نمایاں نقصان پہنچا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ اسرائیلی فوجیوں نے جنوبی لبنان کے علاقے بیاضہ میں ایک سڑک بلاک کر دی جو یو این آئی ایف آئی ایل پوزیشنز تک رسائی کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں خیر سگالی دکھانے کے لیے بہت اچھی اقدامات کیے تھے، جس سے بات چیت میں پیش رفت ہوئی۔ اُنہوں نے واضح کیا کہ امریکی صدر کے نئے خطرات کا ایرانی قوم پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔
