27 جنوری 2011 کی شام لاہور کے پرانی انارکلی تھانے میں ایک انوکھا منظر تھا۔ دو نوجوانوں کے قتل کے الزام میں ایک غیر ملکی شخص سے تفتیش جاری تھی۔ آنے والے چند ہفتوں میں یہ واقعہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان سفارتی بحران کا باعث بننے والا تھا۔ یہ شخص ایک امریکی شہری ریمنڈ ڈیوس تھا، جو اپنی کتاب ’دی کنٹریکٹر‘ میں اس واقعے کی تفصیلات بیان کرتا ہے۔
تفتیش کے دوران جب ریمنڈ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ امریکی سفارتخانے کے لیے کام کرتے ہیں، تو انھیں اندازہ تھا کہ اپنا اصل کام بتانا مشکل ہوگا۔ کچھ گھنٹے قبل، ریمنڈ نے مزنگ کے علاقے میں اپنی گلاک 17 آٹومیٹک پستول سے موٹر سائیکل پر سوار دو نوجوانوں محمد فہیم اور فیضان پر 10 راؤنڈ فائر کیے تھے۔ ریمنڈ نے اپنی کتاب میں لکھا کہ ان سے پوچھا گیا کہ وہ کس کے لیے کام کرتے ہیں؟ کیا امریکی سفیر کے لیے؟ اس پر ریمنڈ نے سوچا کہ اصل کام بتانا مناسب نہیں ہوگا، اس لیے انھوں نے صرف ’کنسلٹنٹ‘ کہہ دیا۔
27 جنوری کو گرفتاری کے بعد ریمنڈ ڈیوس 49 دن تک پاکستان میں قید رہے۔ یہ واقعہ بین الاقوامی خبر بن گیا، جس پر پاکستانی اور عالمی میڈیا نے دن رات رپورٹنگ کی۔ بالآخر 16 مارچ کو لاہور کی شرعی عدالت نے مقتولین کے ورثا کو 24 لاکھ ڈالر خون بہا ادا کرنے پر ریمنڈ کو رہا کر دیا۔
ریمنڈ ڈیوس اور ان کے شریک مصنف سٹارمز ریبیک نے اپنی کتاب میں اس واقعے کی تفصیلات بیان کی ہیں۔ ان کے مطابق، جب وہ لاہور کے چوک میں ٹریفک میں پھنسے ہوئے تھے، تو موٹر سائیکل پر سوار دو افراد میں سے ایک نے پستول نکال کر ان پر تان لیا۔ ریمنڈ، جو ایک تربیت یافتہ سکیورٹی کنٹریکٹر تھے، نے فوراً اپنا پستول نکال کر 10 گولیاں فائر کیں، جس سے دونوں نوجوان ہلاک ہو گئے۔ ریمنڈ نے اپنی کتاب میں لکھا کہ انھیں اس قتل کا کوئی افسوس نہیں، کیونکہ ان کا مقصد صرف اپنے خاندان کے پاس واپس جانا تھا۔
ریمنڈ کی گرفتاری کے بعد، امریکی قونصل خانے کی ایک گاڑی انھیں چھڑوانے کے لیے آئی، لیکن اس نے سڑک کے غلط طرف گاڑی چلاتے ہوئے ایک موٹر سائیکل سوار کو ٹکر مار دیا، جس سے ہلاکتوں کی تعداد تین ہو گئی۔ ریمنڈ کو پہلے فوجی چھاؤنی اور پھر لکھپت جیل منتقل کیا گیا۔ امریکی حکام نے ان کی رہائی کے لیے بھرپور کوششیں کیں، کیونکہ اس وقت امریکہ کو پاکستان میں اسامہ بن لادن کی موجودگی کا علم ہو چکا تھا اور وہ اس کے خلاف آپریشن کی تیاری کر رہے تھے۔
امریکی صدر براک اوباما نے ریمنڈ ڈیوس کو ’سفارتکار‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انھیں ویانا کنونشن کے تحت استثنیٰ حاصل ہے۔ تاہم، مصنف شجاع نواز کے مطابق، ریمنڈ کا سفارتکار ہونا ثابت نہیں ہو سکا، کیونکہ ان کا وزارت خارجہ کی کسی فہرست میں اندراج نہیں تھا۔
ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کے لیے مقتولین کے ورثا کو 24 لاکھ ڈالر خون بہا ادا کیا گیا۔ عدالتی کارروائی کے دوران، لواحقین کو عدالت کے باہر گن پوائنٹ پر رکھا گیا اور انھیں میڈیا کے سامنے خاموش رہنے کو کہا گیا۔ کارروائی مکمل ہونے کے بعد، ریمنڈ کو لاہور کے ہوائی اڈے پر لے جایا گیا، جہاں ایک سیسنا طیارہ ان کا انتظار کر رہا تھا۔
ریمنڈ ڈیوس کی کتاب کے مطابق، وہ پاکستان میں امریکی سفارتخانے کے اہلکاروں کی حفاظت پر مامور تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ براہ راست امریکی حکومت کے ساتھ کام کرتے تھے اور ان سے سکیورٹی خدمات کے ٹھیکے حاصل کرتے تھے۔ تاہم، انھوں نے اپنی سپیشل فورسز کی ماضی کی وابستگی کو پاکستانی حکام سے چھپایا، کیونکہ انھیں خدشہ تھا کہ انھیں جاسوس کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔
یہ واقعہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا، جس نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو بڑھا دیا۔
