واشنگٹن/تہران: امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگ کے درمیان، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز انکشاف کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ٹیلی فون پر مذاکرات جاری ہیں۔ اس اعلان کے ساتھ ہی ایرانی نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ نے بھی واضح کیا کہ “جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں” اور سفارت کاری ہی واحد راستہ ہے۔
ٹرمپ کا موقف: بحری ناکہ بندی جاری رہے گی
امریکی صدر نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت جاری ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مکمل معاہدہ ہونے تک امریکی بحری ناکہ بندی جاری رہے گی۔ صدر ٹرمپ نے ایران کی طرف سے مذاکرات کی پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس وقت تک ناکہ بندی نہیں ہٹائیں گے جب تک ایران اپنے جوہری عزائم پر قابو پانے کے لیے کوئی ٹھوس معاہدہ نہیں کر لیتا۔
پینٹاگون کا دفاع: ہیگ سیٹھ نے جنگ کو ‘دلدل’ قرار دینے کی مذمت کی
امریکی وزیر دفاع پِیٹ ہیگ سیٹھ نے بدھ کو کانگریس کے سامنے ایران کے خلاف جاری جنگ کا پرزور دفاع کیا۔ انہوں نے اسے “دلدل” (quagmire) قرار دینے والے ڈیموکریٹک اراکین کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور ان پر “بے پروا، بے ہمت اور شکست خوردہ” ہونے کا الزام لگایا۔ ہیگ سیٹھ نے کہا کہ یہ جنگ امریکی مفادات کے لیے ضروری ہے اور اسے دلدل نہیں کہا جا سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران میں ایک لڑکیوں کے اسکول پر حملے کی تحقیقات ابھی جاری ہیں، جس میں مبینہ طور پر 170 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
ایران کا ردعمل: ‘جنگ مسئلے کا حصہ ہے، حل نہیں’
ایرانی نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ نے اپنے بیان میں کہا کہ “جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، بلکہ یہ خود مسئلے کا حصہ ہے۔” انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران نے مساوی شرائط پر مبنی مذاکرات کی تجاویز پیش کی ہیں اور سفارت کاری ہی واحد قابل عمل راستہ ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کا موقف: امریکی ناکہ بندی کا مقصد داخلی انتشار ہے
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ امریکہ کی بحری ناکہ بندی کا مقصد ایران میں داخلی تقسیم پیدا کرنا اور معاشی دباؤ کے ذریعے ملک کو اندر سے کمزور کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “دشمن ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے اور وہ بحری ناکہ بندی اور میڈیا کے ذریعے معاشی دباؤ اور اندرونی اختلافات کو ہوا دے کر ہمیں کمزور کرنا چاہتا ہے۔” انہوں نے اتحاد کو ہی اس صورتحال سے نمٹنے کا واحد حل قرار دیا۔
لبنان میں اسرائیلی حملے: جنگ بندی کے باوجود فائرنگ جاری
جہاں ایک طرف امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی خبریں آ رہی ہیں، وہیں اسرائیل نے لبنان کے ساتھ جنگ بندی کے باوجود جنوبی لبنان میں 20 حملے کیے ہیں۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا نشانہ حزب اللہ کے کمانڈ سینٹرز اور فوجی ڈھانچے تھے۔ اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ وہ جنوبی لبنان میں اپنے فوجیوں اور شہریوں کے لیے خطرات کو ختم کرنے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی۔
پوٹن اور ٹرمپ کی ٹیلی فونک گفتگو
اس صورتحال کے درمیان روسی صدر ولادیمیر پوٹن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان بھی ٹیلی فونک گفتگو ہوئی۔ کریملن کے مطابق اس 90 منٹ کی گفتگو میں ایران اور یوکرین کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پوٹن نے ایران کے ساتھ جنگ بندی کو بڑھانے کے ٹرمپ کے فیصلے کو درست قرار دیا، لیکن انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ اور اسرائیل دوبارہ فوجی کارروائی کرتے ہیں تو اس کے ایران اور پڑوسی ممالک کے ساتھ ساتھ پوری عالمی برادری کے لیے سنگین نتائج ہوں گے۔
فٹبال کی سیاست: ایران کا کینیڈا سے واک آؤٹ
ایرانی میڈیا کے مطابق، ایران کا فیفا کانگریس کا وفد وینکوور میں ہونے والی عالمی فٹبال میٹنگ سے قبل ٹورنٹو کے ہوائی اڈے پر امیگریشن حکام کے “نامناسب رویے” اور “ایرانی مسلح افواج کے ایک معزز ادارے کی توہین” کے بعد کینیڈا چھوڑ کر ترکی چلا گیا۔ واضح رہے کہ کینیڈا نے 2024 میں ایران کے پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دے کر ان کے ارکان کے داخلے پر پابندی لگا دی تھی۔
- امریکی صدر ٹرمپ کا ایران کے ساتھ ٹیلی فونک مذاکرات کا انکشاف
- پینٹاگون کے سربراہ ہیگ سیٹھ کا ایران جنگ کو ‘دلدل’ قرار دینے پر ڈیموکریٹس پر شدید تنقید
- ایرانی نائب وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ جنگ مسئلے کا حل نہیں بلکہ کا حصہ ہے
- اسرائیل نے لبنان میں جنگ بندی کے باوجود 20 حملے کیے
- روسی صدر پوٹن اور ٹرمپ کے درمیان ایران اور یوکرین پر اہم ٹیلی فونک گفتگو
