اسلام آباد: اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے جمعرات کو پی ٹی آئی کے نہ آنے پر مذاکراتی کمیٹی کا اجلاس ملتوی تو کردیا تاہم کمیٹی کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اجلاس سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایاز صادق نے کہا کہ گزشتہ اجلاس میں فیصلہ ہوا تھا کہ 7 ورکنگ دنوں میں دوبارہ اجلاس ہوگا۔ آج 7 دن پورے ہوگئے، اس متعلق ہم نے سب کو اجلاس کی دعوت دی تھی، توقع تھی کہ اپوزیشن کے ارکان آئیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے 45 منٹ انتظار کیا، ان کی طرف سے پیغام آیا کہ وہ نہیں آئیں گے۔ میں نے پی ٹی آئی سے رابطہ کیا ہے، پی ٹی آئی ارکان نے کہا ہے کہ ہم اپنی اعلیٰ قیادت سے رابطہ کرکے بتائیں گے۔
ایاز صادق کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی غیر موجودگی کی وجہ سے مذاکرات نہیں چل سکے، اس میٹنگ کو آگے رکھنے کا کوئی مقصد نہیں بنتا، اس لیے آج کی میٹنگ ملتوی کررہے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ میرے دروازے کھلے ہیں، توقع رکھتا ہوں دونوں طرف سے مذاکرات کیے جائیں۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے اعلان کیا کہ مذاکراتی کمیٹی قائم رہے گی، اسے تحلیل نہیں کررہے ہیں۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ “ہم اگر اجلاس میں آئے ہیں تو کچھ نہ کچھ لے کر آئے ہوں گے، ہم نے پی ٹی آئی کے مطالبات کا جواب تیار کیا ہوا ہے، ہماری مثبت کوشش ہے کہ بات چیت آگے بڑھے، اس سے پہلے بھی مذاکرات ہوتے رہے ہیں، امید کرتے ہیں وہ آئیں گے ہم جواب دیں گے اور ہم جواب دینا چاہتے تھے، جب تک آئیں گے نہیں تو جواب کیسے دیں گے؟”
**حکومت کے پاس پی ٹی آئی کے لیے پیشکش**
اطلاعات کے مطابق اگر پی ٹی آئی آج مذاکرات میں شرکت کرتی ہے تو حکومت کے پاس ان کے لیے پیشکش موجود ہے۔ حکومت پی ٹی آئی کے مطالبے کو یکسر مسترد نہیں کرے گی، اس کے بجائے حکومتی ٹیم کوئی درمیانی راستہ پیش کرے گی۔
**اسپیکر کی مذاکرات بچانے کی کوشش**
اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے مذاکرات بچانے کی کوشش کی۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے چیئرمین اسد قیصر سے ٹیلیفونک رابطہ کیا تاہم پی ٹی آئی نے مذاکرات میں شرکت کی کوئی ٹھوس یقین دہانی نہیں کرائی ہے۔
