واشنگٹن: امریکی پارک پولیس نے وائٹ ہاؤس کے قریب نیشنل مال کی گھاس پر نمودار ہونے والے پراسرار اعداد “86 47” کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ان اعداد کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ایک مخفی اور سنگین دھمکی سے تعبیر کیا جا رہا ہے، جس نے دارالحکومت میں سیاسی حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔
گھاس میں ابھرنے والے اعداد کا معمہ
جمعرات 11 جون کو حکام کو اس وقت الرٹ کیا گیا جب واشنگٹن مونیومنٹ کے مغربی لان میں گھاس کی رنگت میں تبدیلی کے ذریعے یہ بڑے بڑے اعداد بنے پائے گئے۔ بی بی سی کے مطابق، امریکی سلیگ میں “86” کا مطلب “کسی سے چھٹکارا پانا” یا “ختم کرنا” ہوتا ہے، جبکہ “47” کو ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب اشارہ سمجھا جا رہا ہے جو امریکہ کے 47ویں صدر ہیں۔
پارک پولیس کے ترجمان نے اے ایف پی کو جاری بیان میں کہا کہ “یہ توڑ پھوڑ کا ایک واقعہ ہے” اور “گھاس کی رنگت اڑنے کی وجہ کا تعین ابھی نہیں کیا جا سکا”۔ انہوں نے مزید بتایا کہ معاملے کی مکمل چھان بین جاری ہے۔
وائٹ ہاؤس کا سخت ردعمل
وائٹ ہاؤس کے ترجمان ڈیوس انگل نے اس واقعے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: “جو بھی سیاسی تشدد یا کلچر آف اساسینیشن میں ملوث ہے یا اس کی حمایت کرتا ہے، اس کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی جانی چاہیے۔” انہوں نے ملزمان کے لیے نفسیاتی مدد لینے کا طنزیہ مشورہ بھی دیا۔
دوسری جانب وزارت داخلہ کے ترجمان نے اس عمل کو “ناقابل برداشت توڑ پھوڑ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدر کے خلاف کسی بھی دھمکی کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جاتا ہے اور ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
ماضی کے واقعات اور قانونی الجھن
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ “86 47” کا پیغام متنازعہ بنا ہو۔ اس سے قبل اپریل میں، سابق ایف بی آئی ڈائریکٹر جیمز کومی پر ریت میں سیپیوں سے یہی پیغام بنانے پر فرد جرم عائد کی گئی تھی۔ استغاثہ کے مطابق، یہ تصویر صدر کی جان اور جسمانی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرے کے اظہار کے مترادف تھی۔
تاہم، ایک حالیہ وفاقی عدالت کے فیصلے نے اس تعبیر کو چیلنج کیا ہے۔ یکم جون کو واشنگٹن کے ایک جج نے آزادی اظہار کی بنیاد پر پارک پولیس کو “86 47” کا نعرہ لگے ایک پرچم کو ہٹانے سے روک دیا۔ جج نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ “یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ ایک معقول مبصر اس پرچم کو ایک حقیقی دھمکی سے تعبیر کرے گا۔” انہوں نے نشاندہی کی کہ لفظ “86” کا عام استعمال “قتل” کے بجائے “باہر نکالنے” کے لیے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔
نیشنل مال پر گھاس میں بنے ان اعداد کی تحقیقات سے یہ معمہ ابھی حل طلب ہے کہ آیا یہ محض ایک احتجاجی علامت تھی یا پھر امریکی صدر کے لیے کوئی باقاعدہ خطرہ۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس حوالے سے کسی بھی قسم کی معلومات فراہم کریں۔
