geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • Geo Team
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • فنانس
  • شاعری
Dark Mode
Skip to content
May 1, 2026
  • Geo Urdu France
  • Prayer Times
  • Finance
  • Currency Rate
  • Gold Rates
  • ENGLISH
  • –
  • FRENCH
geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم
    • 83% of French Parents Report Verbally Abusing Their Childrenفرانس میں والدین کی بڑی تعداد بچوں کے ساتھ تشدد کا اعتراف، نئی رپورٹ میں ہوش ربا انکشافات
    • Why Turkey Eggs Are Rarely on Our Platesکیا آپ نے کبھی ترکی کے انڈے کھائے ہیں؟ غذائیت سے بھرپور مگر بازار میں نایاب
    • Crushed Empress Eugénie's Crown Revealed After Louvre Heistلوور میوزیم نے شہنشاہ نگار کے تاریخی تاج کی تباہ حال تصاویر جاری کردیں
    صحت و تندرستی
    • Pakistan Cracks Down on Unsafe Syringes Amid HIV Surgeایچ آئی وی کے بڑھتے کیسز: ڈریپ کا غیر محفوظ سرنجوں کے خلاف ملک گیر کریک ڈاؤن کا حکم
    • France Launches Spring COVID-19 Booster Campaign for Most Vulnerableفرانس میں موسم بہار کے لیے نئی کورونا ویکسینیشن مہم کا آغاز، بوڑھوں اور کمزور افراد کو ترجیح
    • Pakistan's HIV Crisis: Unsafe Injections Fuel 500% Death Surgeانجیکشن کلچر اور ناقص نفاذ نے پاکستان میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کو ہوا دی
    دلچسپ اور عجیب
    • Humanoid Robots Shatter World Record in Half-Marathonانسانی روبوٹس نے نصف میراتھن کا عالمی ریکارڈ توڑ دیا، چین میں انقلابی پیشرفت
    • Train Travel's Hidden Benefit: Stress Relief Through Sceneryٹرین کے سفر میں مناظر کو دیکھنا ذہنی صحت کے لیے مفید، نئی تحقیق میں انکشاف
    • 83% of French Parents Report Verbally Abusing Their Childrenفرانس میں والدین کی بڑی تعداد بچوں کے ساتھ تشدد کا اعتراف، نئی رپورٹ میں ہوش ربا انکشافات
    سائنس اور ٹیکنالوجی
    • Elon Musk Summoned by French Justice in X Investigationایلون مسک: فرانسیسی عدالت کے سامنے پیشی کا نوٹس اور ایکس کے خلاف تحقیقات
    • Humanoid Robots Shatter World Record in Half-Marathonانسانی روبوٹس نے نصف میراتھن کا عالمی ریکارڈ توڑ دیا، چین میں انقلابی پیشرفت
    • EU's Age Verification App "Technically Ready" to Block Minorsیورپی یونین کا عمر کی تصدیق کرنے والا ایپ تیار، پندرہ سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا سے روکنے کی تیاری
    Geo Team
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    فنانس
  • شاعری

مودی کی چانکیہ سیاست

March 12, 2019 0 1 min read
Narendra Modi
Share this:

Narendra Modi

تحریر : قادر خان یوسف زئی

کیا مودی سرکار پاکستان کے خلاف صرف ”سیاسی ”فائدہ اٹھانا چاہتی ہے یا پھر اس کے علاوہ بھی کوئی ”مفادات ” ہیں۔ اس پر سیر حاصل غور فکر کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے خلاف جارحیت اور دشنام طرازی کے بعد بھارت کے بیانیے میں دنیا کو گمراہ کرنے کے لئے نئی اسٹریجک پالیسی سامنے آئی ہے۔ بھارت دعوی کررہا ہے کہ اس نے پاکستان میں کامیاب مبینہ کاروائی کی لیکن پاکستانی ادارے میڈیا کو اُس جگہ پر رسائی نہیں دے رہا ۔ بھارتی وزارت خارجہ کے اس بیانیہ پر سر دھننے کا علاوہ مزید کیا کیا جاسکتا ہے کہ دنیا میں اُن کے جھوٹ کا پول کھل اور ڈھول پہلے دن ہی پھٹ چکا تھا۔ اب بھارت چاہے جتنا شور کرتا رہے۔ تاہم مودی سرکار اپنی بھارتی عوام کو بھی اندھیرے میں رکھنے کی کوشش میں مصروف ہے ۔ عالمی ذرائع ابلاغ مبینہ جگہ کو جدید ترین ٹیکنالوجی کی مدد سے انتہائی قریب سے دیکھا جاچکا ہے۔ میڈیا وہاں سے کوریج کرچکا ہے۔ بھارت کیوں بھول جاتا ہے کہ عالمی ذرائع ابلاغ نے ہی تو سب سے پہلے مقامی شہری کا انٹرویو نشر کیا تھا جس سے بھارت کا جھوٹ کا پول کھلا۔ بہرحال مودی سرکار شرمندہ ہونے کے بجائے کئی سازشی منصوبوں پر بیک وقت کام کررہی ہے۔

پہلا سب سے اہم ٹارگٹ اقتدار کا حصول ہے۔ جس کے لئے پلوامہ ، سمجھوتہ ایکسپریس جیسے کئی واقعات بھی مودی سرکار کو کرنا پڑیں تو انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ اقتدار کے بعد آئین میں تبدیلی سے مزید اختیار ات حاصل کرنا تاکہ ہندو انتہا پسندوں کے مذموم مقاصد کو پورا کرنے میں کوئی دقت نہ ہو۔ لڑاکا ایف 16 طیارے بنانے کے لیے امریکی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن اور بھارت کی کمپنی ‘ٹاٹا ایڈوانسڈ سسٹمز’ کا ایک معاہدہ طے ہوا تھا جس کے تحت ایف 16بھارت میں تیار کئے جائیں گے۔ جس کی توثیق اُس وقت ہوئی جب ‘ٹو پلس ٹو ‘معاہدے کے تحت بھارت اور امریکا نے ستمبر2018 میں ایک اہم دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ، جس سے انتہائی جدید ترین، حساس دفاعی سازو سامان اور امریکی ٹیکنالوجی بھارت کو فروخت کرنے کا راستہ ہموار ہو ا۔”میڈ ان انڈیا” کے پروگرام سے مودی سرکار خطے میں خطرناک جنگی ساز و سامان تیار کرنے کی ٹیکنالوجی بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔

بھارت نے جہاں چین اور افغانستان کے ساتھ امریکی تنازع کا فائدہ اٹھایا تو دوسری جانب بھارت نے امریکی دباؤ کے باوجود روس کے ساتھ پانچ بلین ڈالر مالیت کے، ایس 400 طرز کے ایئرڈیفنس میزائل نظام خریدنے کے معاہدے پر دستخط کئے تھے۔ گو کہ امریکا نے بھارت کو انتباہ دیاتھا کہ وہ ایس 400کو خریدنے سے باز رہے ۔ واضح رہے کہ ترکی نے جب ایس 400ائیر ڈیفنس میزائل نظام روس سے خریدنے کا معاہدہ کیا تو امریکا نے اعلان کیا کہ ترکی کو ایف35جنگی طیارے نہیں دے گا ۔ امریکا چاہتا ہے کہ ترکی ساڑھے تین ارب ڈالر کا پیٹریاٹ میزائل سسٹم امریکا سے خریدے۔یہی آفر امریکا نے بھارت کو دی تھی لیکن بھارت نے روس سے معاہدہ کرلیا ۔

مودی سرکار رافیل طیارے اسیکنڈل میں اربوں ڈلر کی کر پشن اور اقربا پروری کے دبائو میں ہے لیکن مودی سرکار بھارتی عوام کی ذہن سازی کرچکی ہے کہ بھارتی فوجی طاقت کے لئے نئے جنگی ساز و ساما ن کی ضرورت ہے۔ مگ 21کو بھارتی میڈیا ” تابوت ” قرار دے چکا ہے کہ یہ طیارے ” بیوہ” بنانے کا کام کررہے ہیں۔ دنیا میں جنگ کروانے کا ماہر اور جنگی ساز و سامان کی فروخت سے چلنے والی امریکی معیشت دنیا میں ایک نئے جنگی سلسلے کو جاری رکھنے پر عمل پیرا ہے۔شام ، عراق ، افغانستان کے بعد جنگی ساز و سامان فروخت کرکے اپنے خزانے بھرنے والی عالمی طاقتیں اب سعودی عرب ، ترکی ، چین، جنوبی کوریا اور پاکستان میں عدم تحفظ کو پروان چڑھا کر خطے میں جنگی ساز و سامان کے خرید و فروخت کی نئی دوڑ شروع کرنا چاہتی ہیں۔

مودی سرکار فی الوقت انتخابات کی وجہ سے پاکستان کے خلاف جنگی مہم جوئی نہیں کرنا چاہتا کیونکہ پاک۔بھارت جنگ سے بھار ت میں عام انتخابات میں تاخیر ہوسکتی ہے۔مودی سرکار صرف جنگی ماحول قائم رکھنا چاہتی ہے اور اقتدار کے لئے اوچھے ہتھکنڈے ضرور استعمال کرسکتی ہے۔ بھارتیہ جتنا پارٹی اپنی انتخابی مہم میں ” ابھی نندن” کی تصاویر بھی استعمال کررہی ہے۔ تاہم سوشل میڈیا میں شدید تنقید کے بعد بھارتی الیکشن کمیشن نے سیاسی انتخابات میں فوج سے متعلقہ تصاویر کے استعمال پر تمام سیاسی جماعتوں پر پابندی عائد کردی ہے لیکن پابندی کے باوجود سوشل میڈیا میں جس طرح مودی سرکار کے ہندو انتہا پسند جنگی طیاروں ، پلوامہ اور ابھی نندن کو استعمال کررہی ہے اس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مودی سرکار کے مقاصد کیا ہیں۔

مودی سرکار دوبارہ اقتدار میں آکر عالمی قوتوں کے مقاصد کی تکمیل اور پاکستان کے خلاف اپنے مذموم عزائم کو کامیاب بنانے کے لئے جنگ کا راستہ بھی ہموار کرسکتی ہے ۔ گر جنگ نہ بھی ہو تو کھربوں ڈالر کے جنگی ساز و سامان کے معاہدوں پر عمل درآمد شروع ہوجائے گا اور پھر یقینی طور پر خطے میں جنگی ساز و سامان کی خرید و فروخت کی نئی دوڑ شروع ہوجائے گی ۔ اسے ہم سعودی عرب کی موجودہ صورتحال سے بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ سعودی عرب اس وقت اپنے عدم تحفظ کی وجہ سے دنیا میں جنگی ساز سامان کا سب سے بڑا خریدار بن چکا ہے۔عالمی قوتوں نے سعودی عرب کو اس طرح الجھا دیا ہے کہ سعودی عرب کے مالی وسائل اب جنگی ساز وسامان کے لئے صرف ہو رہے ہیں۔ ایران و سعودی عرب کے ساتھ قطر اور متحدہ عرب امارات کے مالی وسائل بھی جنگی ساز و سامان فروخت کے لئے استعمال ہو رہے ہیں ۔ ان حالات میں عالمی قوتوں نے عرب ممالک کے خلاف اسرائیل کو ” ہوا” بنایا ہوا ہے تو دوسری جنوبی و مشرقی ایشیامیں بھارت کو” استعمال” کرنے کی پالیسی پر عمل درآمد جاری ہے۔

مودی سرکار ، بھارت میں ہندو انتہا پسند سیاست میں کلیدی حیثیت اختیار کرچکی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بھارتی عوام کی اکثریت شعور کے بجائے جذبات سے کام لے رہی ہے۔ مودی سرکار مکمل طور پر چانکیہ سیاست پر عمل پیراہے ۔ عوام میں خطرناک حد تک جنگی جنون کا یہ عالم کردیا ہے کہ کرکٹ جیسے کھیل کو بھی فوج کی طرح سیاست کے لئے استعمال کیا گیا ۔ مودی سرکار ایڈونچر یقینی طور پر پاکستان کے لئے مسائل پیدا کرنا چاہتا ہے۔ خاص طور پر افغان امن تنازع حل میں بھارت کی رکاوٹیں ایک طے شدہ منصوبے کے تحت ہیں ۔ ٹرمپ انتظامیہ 25فروری سے مسلسل افغان طالبان سے مذاکرات میں مصروف ہیں ۔ لیکن واضح نظر آرہا ہے کہ افغانستان میں فوجی انخلا پر ٹرمپ انتظامیہ اور امریکی اسٹیبلشمنٹ ایک صفحے پر نہیں ہیں۔

مودی سرکار کی چانکیہ سیاست پر پاکستانی سیاسی قیادت کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ انہیں صرف کسی سانحہ یا ملک دشمن اقدامات پر ہی ایک پیچ پر آنے کے علاوہ اپنے تمام اختلافات کو بھی قومی مفاد میں ایک طرف رکھنے کی ضرورت ہے ۔ حکمراں جماعت کو اپوزیشن کے ساتھ مسلسل رابطوں کی ضرورت ہے ۔ عمران خان بھارت کے ساتھ جلد ازجلد مذاکرات کے لئے عجلت کے بجائے تحمل کا مظاہرہ کریں۔ بلاشبہ پاک۔ بھارت مذاکرات ضروری ہیں ۔ لیکن انہیں قومی وقار کا خیال رکھنا چاہیے۔ بھارت سے مذاکرات اہم ہیں لیکن پارلیمنٹ میں جس طرح ابھی نندن کی رہائی کے لئے رابطہ نہ ہونے کا انکشاف کیا، اس کا ذکر پارلیمان میں کرنا مناسب نہیں سمجھا گیا۔ بھارتی وزیر اعظم سے رابطے تو بھارتی انتخابات کے بعد ہی ممکن نظر آرہے ہیں تاہم اس وقت ضروری ہے کہ عمران خان اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کریں ۔ کیونکہ یہ پاکستان کے حق میں بہتر عمل ہو گا۔
Qadir Khan Yousafzai

تحریر : قادر خان یوسف زئی

Share this:
Line of Control Firing
Previous Post وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا
Next Post بلاول نواز ملاقات
Bilawal Bhutto – Nawaz Sharif Meeting

Related Posts

Sarkozy Shifts Strategy in Libyan Funding Appeal Trial

نکولس سرکوزی کی لیبیا فنڈنگ کیس میں آزمائش: سابق صدر نے گوانٹ کے الزامات کی تردید کی لیکن پرانے ساتھی کو بچایا

April 29, 2026
US-Iran War: Truce Talks Continue Amid Strikes

امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی کوششیں، ٹرمپ کا ٹیلی فونک رابطے کا انکشاف

April 29, 2026
Pakistan Strikes Afghan Taliban in Operation Ghazab lil-Haq

آپریشن غضب للہ حق: افغان طالبان کے 796 دہشت گرد ہلاک، 286 چوکیاں تباہ

April 29, 2026
Pakistan Transfers Three IHC Judges Amid Controversy

اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججوں کی منتقلی کا نوٹیفکیشن جاری

April 29, 2026

Popular Posts

1 Grant Flower

پاکستان ٹیم کے کچھ کھلاڑیوں کیلئے خطرہ دکھائی دے رہا ہے: بیٹنگ کوچ

2 Katrina Kaif

کترینہ کا پاکستانی اداکارہ بننے سے انکار

3 Manchester knife Attack

مانچسٹر میں چاقو کے حملے میں تین افراد زخمی

4 New Year's Celebration

دنیا بھر میں رنگا رنگ آتش بازی اور برقی قمقموں کی چکا چوند کے ساتھ نئے سال کا آغاز

5 Bilawal Bhutto

صدر زرداری اجازت دیں تو ایک ہفتے میں پی ٹی آئی حکومت گرا سکتے ہیں: بلاول بھٹو

6 Qadir Ali

پی بی 26 ضمنی انتخاب: ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے قادر علی نے میدان مار لیا

© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.