geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • Geo Team
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • فنانس
  • شاعری
Dark Mode
Skip to content
September 19, 2026
  • Geo Urdu France
  • Prayer Times
  • Finance
  • Currency Rate
  • Gold Rates
  • ENGLISH
  • –
  • FRENCH
geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم
    • Fatbikes Gain Popularity in French Cities Amid Safety Concernsفیٹ بائیکس کا بڑھتا رجحان: سہولت، تنازعہ اور ضابطے کی ضرورت
    • France Revises Under-15 Social Media Ban for EUفرانس نے 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا نیا مسودہ یورپی یونین کو پیش کر دیا
    • Screens and Parenting: The Hidden Classroom Crisisاسکرینیں اور والدین: بچوں کی تعلیمی کارکردگی پر پوشیدہ اثرات
    صحت و تندرستی
    • Fatbikes Gain Popularity in French Cities Amid Safety Concernsفیٹ بائیکس کا بڑھتا رجحان: سہولت، تنازعہ اور ضابطے کی ضرورت
    • Pediatrician Sounds Alarm Over Tiger Mosquito Surge in Val-de-Marneٹائیگر مچھروں کی افزائش اور چکن گونیا کے مقامی کیسز پر ویلی-ڈی-مارن میں تشویش
    • French Women Warned Over Desogestrel Pill Meningioma Riskفرانس میں 16 لاکھ خواتین کو برتھ کنٹرول گولی سے میننجیوما کے خطرے کی وارننگ
    دلچسپ اور عجیب
    • France Revises Under-15 Social Media Ban for EUفرانس نے 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا نیا مسودہ یورپی یونین کو پیش کر دیا
    • Paris Metro Roof Surfing Sparks Safety Outrageپیرس میں میٹرو کی چھت پر نوجوان کی خطرناک stunt، حکام کی سخت مذمت
    • Screens and Parenting: The Hidden Classroom Crisisاسکرینیں اور والدین: بچوں کی تعلیمی کارکردگی پر پوشیدہ اثرات
    سائنس اور ٹیکنالوجی
    • NASA Probe Spots Massive New Moon Craterچاند کی سطح پر نیا دیوہیکل گڑھا دریافت، سائنسدان حیران
    • Zuckerberg Rejects Calls to Slow AI Developmentزکربرگ کا مصنوعی ذہانت کی ترقی کو سست کرنے سے انکار، ٹرمپ کے مؤقف کے قریب
    • EU Proposes Social Media Ban for Under-13sیورپی یونین میں 13 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی تجویز
    Geo Team
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    فنانس
  • شاعری

قربانی

August 5, 2019August 9, 2019 0 1 min read
Inflation
Share this:

Inflation

تحریر : پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

وہ بیس سال بعد مُجھ سے ملنے آیا تھا پہلی نظر میں اُسے پہچان بھی نہ سکا اُس کا چہرہ شناسا ضرور لگا جب وہ بولا تو بھی آشنائی کی جھلک نظر آئی پھر میری طاقتور یاداشت نے کام کیا تو میں نے اُسے پہچان لیا وہ میرا گریجوایشن کا کلاس فیلو تھا چھوٹے قد کا کھلنڈرا شریر سا دیہاتی جوان مستقل مسکراہٹ اورمثبت رویہ اُس کے چہرے کا خاصا تھا ہر دوست کے کام آنے کی کوشش کر تا اُس کے چھوٹے قد کی وجہ سے ہم سب اُس کا مذاق اڑاتے تو وہ مسکرا کر ٹا ل دیتا اور ایک ہی بات کر تا چھوٹے قد کے لو گ زیادہ مضبوط اور طویل عمر پاتے ہیں اُس کی پھرتی چالاکی شرارتوںکی وجہ سے میں نے اُس کا نام شیر خان رکھ دیا تھا میری دیکھا دیکھی سارے دوست بھی اُس کو شیر خان بلاتے وہ اِس لقب پر بہت خوش ہو تا وہ جب بھی آتا ہم پکارتے لو جی شیر ببر آگیا ہے اب مزہ آئے گا اور واقعی اُس کی موجودگی محفل کو زعفران بنا دیتی ‘ اپنے چچا کی لڑکی سے بچپن میں ہی منگنی ہو گئی تھی ہم اکثر اس حوالے سے بھی اُسے بہت تنگ کر تے وہ ہر بات مسکرا کر ٹال دیتا زندگی کی مشکل سے مشکل تکلیف دہ بات کو وہ مسکرا کر ٹال دیتا یا حل کرنے کا طریقہ بتا دیتا۔

میں اُس وقت بھی اُس کی بہت عزت کر تا تضحیک نہ کرتاایسی بات سے گریز کر تا جس سے اُس کی دل آزاری ہو تی ہو ‘ میرے اِس مثبت روئیے کا اُسے احساس تھا اِس لیے جب بھی ہم دونوں تنہائی میں ملتے تو وہ تحسین آمیز نظروں سے میری طرف دیکھتا اور کہتا یا ر بھٹی تم میری دل سے قدر کرتے ہو ‘میں جپھی ڈال کر کہتا شیر خان تم ہو ہی اِس قابل میری قدر دانی حوصلہ افزائی پر اُس کی آنکھیں نم ہو جاتیں’ بی اے کا امتحان ہوا میں پاس ہو کر یونیورسٹی میں آگیا لیکن وہ فیل ہو گیا تین چار بار کوششوں کے بعد بھی بی اے نہ ہوا گائوں میں جو تھوڑی سی زرعی زمین تھی اُس پر کھیتی باڑی شروع کر دی اب میرا کالج فیلوز سے رابطہ کم ہو گیا تھا ایم اے کے بعد کوہ مری میں نوکری لگی تو روحانیت تصوف کی وادی میں ایسا گم ہوا کہ اپنی بھی ہوش نہ رہی ایک دو بار کسی دوست کی شادی پر ملاقات ہوئی پھر یہ رابطہ مستقل بند ہو گیا آج تقریبا ً بیس سال بعد میں آفس سے گھر آیا تو چھوٹے قد کا نحیف کمزور شکستہ حال چھوٹے قد کا ڈھلتی عمر کا پریشان حال شخص میرا منتظر تھا سلام دعا آشنائی کے بعد ماضی کا شیر خان بڑھاپے کی دہلیز پر کھڑا میرے سامنے بیٹھا تھا جب وہ مسکرانے کی کو شش کرتا تو غربت جسم کی کمزوری چھلک پڑتی میں اُس کے ساتھ اپنے حجر ے میں بیٹھا تھا جہاں ہم دونوں نے کھانا کھایا چائے پی فروٹ کھایا شیر خان نے خوب جی بھر کر کھانا کھایا ساتھ میں وہ اللہ کا شکر بھی ادا کر تا جارہا تھا قد تو اُس کا پہلے ہی چھوٹا تھا بڑھتی عمر بڑھاپے کی دستک نے اُس کے جسم کو اور بھی کمزور کر دیا تھا ‘ وہ بتا رہا تھا اللہ تعالی نے اُسے پانچ بیٹیوں کی رحمت سے نوازا ہے بیٹا نہیں دیا اُس کی کوئی حکمت ہو گی میری بیٹیاں بھی بیٹوں کی طرح ہیں اور وہ خوش تھا بڑی بیٹی کی شادی کر دی تھی دو بیٹیا ں کالج جبکہ ایک میٹرک کی طالبہ تھی آخری بیٹی پانچ جماعتوں کے بعد گھر بیٹھ گئی تھی وہ ماں کاکام کاج میں ساتھ دیتی تھی مہنگائی اور اخراجات میں زیادتی کی وجہ سے میں آخری بچی کو پڑھانے کی سکت نہیں رکھتا تھا اِس لیے اِس بات کا شیر خان کو ملال بھی تھا۔

آخری بیٹی کا ذکر کر تے ہو ئے اُس کی دھندلی آنکھوں کے کنارے بھیگ گئے تھے تھوڑی زرعی زمین کے ساتھ بڑی مشکل سے اُس نے سفید پو شی کا بھرم رکھا ہو ا تھا اُس کی گفتگو سے واضح طور پر پتہ چل رہا تھا کہ وہ مہنگائی کے منہ زور جن کے سامنے شکست کھاتا جارہا تھا مہنگائی کی زیادتی کی وجہ سے بنیادی ضروریات زندگی کے لیے بھی اُسے شدیدمشکل پیش آرہی تھی اُس کے لہجے کی شگفتگی زندہ دلی شرارتیں سالوں پہلے اُس سے روٹھ چکی تھی میں اُس کے موڈ کو نارمل کر نے کی پوری کو شش کر رہا تھا اُس کے چچا کی بیٹی جواب اُس کی بیوی تھی جس کے بارے میں ہم اُس چھیڑا کر تے تھے اُس کا حال احوال پو چھا کہ اُس سے محبت آج بھی قائم ہے تو وہ مسکرا یا جی محبت قائم ہے اوریہ محبت آخری سانسوں تک قائم رہے گی اُس کی بیٹیوں کی عمروں کے بارے میں مزاجوں کے بارے میں شکل و صورت اور ذہانت کے بارے میں باتیں کیں’ والدین فوت ہو گئے تھے پھر میں نے کالج کے دنوں کی باتیں شروع کردیں ‘ کالج اور جوانی کے دن کسی بھی انسان کا سنہرا اثاثہ ہو ئے ہیں اور اگر کلاس فیلو مل جائے جو بہت قریبی رہا ہو تو نشہ دوبالا ہو جاتا ہے۔

کالج کے دنوں کی شرارتیں باتیں ختم ہو ئیں تو شیر خان نے میرے روحانی سفر کے بارے میں پو چھنا شروع کر دیا کہ میں کس طرح روحانیت فقیری کی طرف آگیا کیونکہ وہ کالج میں میرے قریبی دوستوں میں تھا میں بھی اُس وقت عام پاکستا نی جوانی کی طرح شرارتی کھلنڈرا سپورٹس لور تھا جو دن رات دوستوں اور کھیل کے میدانوں میں نظر آتا تھا یا دوستوں کے ساتھ سینما ہالوں کا رخ کر تا وہ میر ی زندگی کے اُس دور سے بخوبی واقف تھا اِس لیے وہ حیران تھا کہ میں زندگی کی ساری رنگینیاں چھوڑ کر کس طرح راہ سلوک کی پرخار وادی کو چنا اور پھر مستقل طور پر اِس وادی پر خار کا مسافر بنا’ ہمیں باتیں کر تے ہوئے تین گھنٹے سے زیادہ کا وقت ہو چکا تھا کھانا چائے خوب گپوں کے بعد اب میں اِس انتظار میں تھا کہ شیر خان جائے تو میں گھر کے کاموں پر دھیان دے سکوں لیکن شیر خان جانے کو تیار نہیں تھا اب میں نے بغور اُس کا جائزہ لیا تو بات سمجھ میںآگئی کہ وہ کسی ضرورت کام یا بات کے لیے میرے پاس آیا ہے اب اُسے حوصلہ نہیں ہو رہا تھا با ت کر نے کا ‘ شرمندگی سفید پوشی یا وضع داری نے اُس کی زبان بند کر رکھی تھی اب میں نے اُسے حوصلہ دیا شیر خان کو ئی بات ہے تو کرو مجھے خوشی ہو گی آخر کار بڑی کوششوں کے بعد اُس کے تھر تھراتے ہونٹوں سے الفاظ پھسلنا شروع ہو ئے یار عید قریب ہے میرے پاس قربانی کے وسائل نہیں میرے گھر میں غربت کا ڈیرہ ہے ہو شربا مہنگائی نے تو سانسیں بند کر نا شروع کر دی ہیں میں نے سوچھا ہے چھوٹی بیٹی کو کسی کے گھر کام پر لگا دو اُس کے پیسوں سے باقی بچیوں کی پڑھائی اور بیوی کی دوائی کے اخراجات پو رے ہو جائیں گے۔

بیٹی میرے جگر کا ٹکڑا ہے کسی کے گھر بھیجنے کو دل نہیں مانتا تم تو اُس کے چاچے لگتے ہو کیا تم میری بیٹی کو اپنے گھر کام پر رکھ سکتے ہو ‘ میری بیٹی کی اِس قربانی سے میری باقی بچیاں آسانی سے پڑھ سکیں گی اب وہ اپنی بیٹی کی خوبیاں اچھا کام وغیر ہ بتا رہا تھا الفاظ پگھلتے ہو ئے سیسے کی طرح میری سماعتوں کے جلا رہے تھے مجھے لگ رہا تھا جیسے کسی نے مجھے کباب والی سلاخ پر پرو کر آگ کے انگاروں پر رکھ دیا ہو میں سر سے پائوں تک شل ہو کر پتھر کا لگ رہا تھا وہ نظریں جھکائے اپنی بیٹی کی تعریفیں کر رہا تھاآنکھوں سے آنسو ٹپ ٹپ فرش پر گر رہے تھے ‘ مہنگائی نے اُسے سفید پوش سے گدا گر بنا دیاتھا وہ اپنی لاڈلی بیٹی کو قربان کر نے آیا تھا میری آنکھوں سے بھی موسلا دھار برسات بہنے لگی میں اٹھا شیر خان کو گلے سے لگایا اور بولا یار میری خواہش تھی کسی بیٹی کو پڑھائوں آج سے تیسری بیٹی میری بیٹی ہے تمہارے اکائونٹ میں ہر ماہ اُس کے اخراجات پہنچ جایا کریں گے اُس کو جا کر پڑھائو اپنی آنکھوں کے سامنے رکھو اُس کی شادی پر مجھے ضرور بلانا شیر خان بچوں کی طرح بلک بلک کر رونے لگا پھر ہم دونوں نے آنکھوں کے چھپر کھول دئیے آنکھوں کا سمندر بہنے لگا۔
Prof Muhammad Abdullah Khan Bhatti

تحریر : پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
ای میل: help@noorekhuda.org
فون: 03004352956
ویب سائٹ: www.noorekhuda.org
فیس بک آفیشل پیج: www.fb.com/noorekhuda.org

Share this:
Kashmir Solidarity
Previous Post کشمیر۔۔۔قومی یکجہتی وقت کا تقاضا
Next Post بھارتی فیصلہ: پاکستان میں رد عمل
Protest

Related Posts

Boy, 7, Suspected of Killing Aunt in Val-de-Marne

فرانس میں سات سالہ بچے نے خالہ کو قتل کر دیا، ماں کو بچانے کا دعویٰ

September 18, 2026
US Approves $24.3B F-35 Sale to Saudi Arabia

امریکہ کا سعودی عرب کو 24.3 بلین ڈالر کے ایف-35 طیارے فروخت کرنے کا فیصلہ

September 18, 2026
Australia to Detain Tourists Who Overstay Visas

آسٹریلیا کا سیاحوں کے خلاف سخت اقدام: ویزا مدت بڑھانے والوں کو حراست میں رکھنے کا اعلان

September 18, 2026
Streisand Blasts Trump's Kennedy Center "Ego"

باربرا اسٹرائسینڈ کا ٹرمپ پر کڑا حملہ: ’کینیڈی سینٹر کی تباہی دردناک ہے‘

September 18, 2026

Popular Posts

1 Grant Flower

پاکستان ٹیم کے کچھ کھلاڑیوں کیلئے خطرہ دکھائی دے رہا ہے: بیٹنگ کوچ

2 Katrina Kaif

کترینہ کا پاکستانی اداکارہ بننے سے انکار

3 Manchester knife Attack

مانچسٹر میں چاقو کے حملے میں تین افراد زخمی

4 New Year's Celebration

دنیا بھر میں رنگا رنگ آتش بازی اور برقی قمقموں کی چکا چوند کے ساتھ نئے سال کا آغاز

5 Bilawal Bhutto

صدر زرداری اجازت دیں تو ایک ہفتے میں پی ٹی آئی حکومت گرا سکتے ہیں: بلاول بھٹو

6 Qadir Ali

پی بی 26 ضمنی انتخاب: ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے قادر علی نے میدان مار لیا

© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.