واشنگٹن نے مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعے کے دوران سعودی عرب کو 24.3 بلین ڈالر مالیت کے 48 جدید ترین ایف-35 لڑاکا طیارے فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے قانون کے تقاضے کے تحت اس مجوزہ فروخت کی اطلاع کانگریس کو دے دی ہے، جس کی حتمی منظوری امریکی قانون سازوں کے ہاتھ میں ہے۔
اسرائیل کو بم فروخت کے بعد نیا بڑا معاہدہ
یہ فیصلہ اسرائیل کو اربوں ڈالر مالیت کے بم فراہم کرنے کے معاہدے کے چند روز بعد سامنے آیا ہے۔ محکمہ خارجہ کے مطابق، مجوزہ فروخت سعودی عرب کی قومی دفاع کو مضبوط بنا کر موجودہ اور آئندہ خطرات کے خلاف اس کی روک تھام کی صلاحیت میں اضافہ کرے گی اور امریکی افواج کے ساتھ باہمی تعاون کو بہتر بنائے گی۔
سعودی عرب نے اس اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے واشنگٹن میں اپنے سفارت خانے کے ذریعے کہا کہ ایف-35 کی مجوزہ فروخت سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کی مضبوطی اور پائیداری کا ثبوت ہے۔
خطے میں فوجی توازن برقرار رہنے کا دعویٰ
ریاض طویل عرصے سے ایف-35 طیارے حاصل کرنے کی کوشش کر رہا تھا، تاہم خطے میں واحد ملک اسرائیل نے اس حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا جو اس وقت یہ طیارے استعمال کرتا ہے۔ محکمہ خارجہ کے مطابق یہ فروخت خطے میں فوجی توازن کو متاثر نہیں کرے گی، جو امریکہ کی طویل المدتی پالیسی کے عین مطابق ہے جس کے تحت اسرائیل کو خطے کے ممکنہ حریفوں پر فوجی برتری حاصل رہنی چاہیے۔
ان طیاروں کی اصل ترسیل کئی برسوں پر محیط ہوگی۔
یمن کے حوثیوں کے خلاف تنازع
یہ معاہدہ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعے کے دوران سعودی عرب کی جانب سے رواں سال کیے گئے بڑے ہتھیاروں کی خریداری کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔ فروری میں ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کے آغاز کے بعد سے سعودی عرب بھی اس تنازعے میں گھسیٹ لیا گیا ہے۔
ایران کی جانب سے مسلسل نشانہ بنائے جانے کے علاوہ سعودی عرب کو جولائی سے تہران کے حمایت یافتہ یمنی حوثی باغیوں کی کارروائیوں کا بھی سامنا ہے، جس نے دنیا کے سب سے بڑے خام تیل برآمد کنندہ ریاض کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ایک امریکی اہلکار کے مطابق حوثی حملوں کے پیش نظر امریکی فوجی یونٹ سعودی عرب کے ساتھ انٹیلی جنس شیئرنگ کو مضبوط بنانے پر کام کر رہی ہے۔ ستمبر کے آغاز میں محکمہ خارجہ نے ریاض کو 5 بلین ڈالر مالیت کے 10 ہزار سے زائد بم فروخت کرنے کی منظوری دی تھی، تاہم واشنگٹن نے حوثیوں کے خلاف براہ راست کارروائی کا وعدہ نہیں کیا۔
چینی انٹیلی جنس کی رسائی کا خدشہ
ایف-35 کی یہ فروخت امریکہ میں متفقہ طور پر پذیرائی حاصل نہیں کر سکی۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی انٹیلی جنس تجزیہ کاروں نے امکان ظاہر کیا ہے کہ بیجنگ ریاض کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ایف-35 کی ٹیکنالوجی حاصل کر سکتا ہے۔
ایوان نمائندگان کی انٹیلی جنس کمیٹی کے رکن ڈیموکریٹ راجا کرشنامورتی نے خبردار کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ کو سعودی عرب کو ایف-35 لڑاکا طیارے فروخت کرنے کے منصوبے پر عمل نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ امریکی انٹیلی جنس ایجنسیاں خود متنبہ کر رہی ہیں کہ اس سے امریکی فوجی ٹیکنالوجی کے قیمتی راز چینی کمیونسٹ پارٹی کی دسترس میں آ سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ امریکہ نے اب تک انتہائی جدید ایف-35 طیارے صرف اپنے قریبی اتحادیوں، بالخصوص نیٹو کے متعدد یورپی ممالک اور اسرائیل کو فروخت کرنے کی اجازت دی ہے۔
