واشنگٹن: عالمی شہرت یافتہ امریکی گلوکارہ اور اداکارہ باربرا اسٹرائسینڈ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈی سینٹر سے متعلق اقدامات کو ’دردناک‘ اور ’انتہائی پریشان کن‘ قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے امریکی شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ آئندہ وسط مدتی انتخابات میں لازمی ووٹ ڈالیں تاکہ ثقافتی اداروں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔
کینیڈی سینٹر کا نام کیوں رکھا گیا؟
اپنی ذاتی ویب سائٹ پر جاری کیے گئے ایک طویل پیغام میں باربرا اسٹرائسینڈ نے یاد دلایا کہ واشنگٹن میں واقع اس ثقافتی مرکز کا نام کیوں تبدیل کر کے کینیڈی سینٹر رکھا گیا تھا۔ ان کے مطابق یہ کانگریس کا ایک انتہائی دانشمندانہ فیصلہ تھا کیونکہ صدر جان ایف کینیڈی فنون لطیفہ کے حقیقی محافظ تھے۔
انہوں نے لکھا کہ اس مرکز کے قیام کے بعد دنیا بھر سے ہزاروں فنکار یہاں اپنے فن کا مظاہرہ کر چکے ہیں جس نے اسے ایک ناقابل فراموش اور ممتاز ثقافتی مقام بنا دیا۔ اسٹرائسینڈ نے بتایا کہ انہیں 2008 میں کینیڈی سینٹر آنرز سے نوازا گیا تھا جو ہر سال فن اور ثقافت میں نمایاں خدمات پر دیا جاتا ہے۔
ٹرمپ کی ’غیر معمولی انا‘ پر تنقید
گلوکارہ نے کینیڈی سینٹر کی موجودہ صورتحال کو ’شدید تکلیف دہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دیکھنا انتہائی افسوسناک ہے کہ ایک انتہائی معزز ادارہ ایک شخص کی انا اور نام کی جنگ کا شکار ہو گیا ہے۔ انہوں نے صدر ٹرمپ کے ان اقدامات کو نشان زد کیا جن میں عمارت پر اپنا نام درج کرانے کی کوشش، جس پر عدالت نے روک لگائی، اور حال ہی میں اسے منہدم کرنے کی دھمکی شامل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے عمارت کے سامنے بڑا بینر لگانا اور عدالتی فیصلے کے باوجود اپنا نام شامل کرنے کی کوشش ایک ایسے شخص کی عکاسی کرتی ہے جو اپنی شکست کو تسلیم نہیں کر پا رہا۔
کینیڈی سینٹر کی بندش کا معاملہ
واضح رہے کہ کینیڈی سینٹر کے بورڈ آف ٹرسٹیز نے 15 ستمبر کو مرکز کو فوری طور پر بند کرنے کا ووٹ دیا تھا۔ اس سے قبل صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر انہیں کینیڈی سینٹر کی تزئین و آرائش کا سہرا نہ دیا گیا تو یہ مرکز بند ہو جائے گا اور بالآخر اسے منہدم کر دیا جائے گا۔
ادھر باربرا اسٹرائسینڈ نے اس صورتحال پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حیرت کی بات ہے کہ جب عمارت پر ٹرمپ کا نام لکھا ہوا تھا تو اسے بند کرنے یا دوبارہ تعمیر کرنے کی کوئی بحث نہیں تھی۔ انہوں نے اسے امریکی عوام کے لیے ایک انتباہ قرار دیا اور کہا کہ تمام شہریوں کے لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ وہ وسط مدتی انتخابات میں اپنا حق رائے دہی استعمال کریں۔
