geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • Geo Team
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • فنانس
  • شاعری
Dark Mode
Skip to content
May 24, 2026
  • Geo Urdu France
  • Prayer Times
  • Finance
  • Currency Rate
  • Gold Rates
  • ENGLISH
  • –
  • FRENCH
geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم
    • 83% of French Parents Report Verbally Abusing Their Childrenفرانس میں والدین کی بڑی تعداد بچوں کے ساتھ تشدد کا اعتراف، نئی رپورٹ میں ہوش ربا انکشافات
    • Why Turkey Eggs Are Rarely on Our Platesکیا آپ نے کبھی ترکی کے انڈے کھائے ہیں؟ غذائیت سے بھرپور مگر بازار میں نایاب
    • Crushed Empress Eugénie's Crown Revealed After Louvre Heistلوور میوزیم نے شہنشاہ نگار کے تاریخی تاج کی تباہ حال تصاویر جاری کردیں
    صحت و تندرستی
    • WHO Declares Emergency as Ebola Kills Over 80 in DR Congoکانگو میں ایبولا کی نئی وبا قابو سے باہر، ڈبلیو ایچ او نے بین الاقوامی ایمرجنسی نافذ کردی
    • Pakistan Cracks Down on Unsafe Syringes Amid HIV Surgeایچ آئی وی کے بڑھتے کیسز: ڈریپ کا غیر محفوظ سرنجوں کے خلاف ملک گیر کریک ڈاؤن کا حکم
    • France Launches Spring COVID-19 Booster Campaign for Most Vulnerableفرانس میں موسم بہار کے لیے نئی کورونا ویکسینیشن مہم کا آغاز، بوڑھوں اور کمزور افراد کو ترجیح
    دلچسپ اور عجیب
    • Giant dinosaur Nagatitan identified from Thai fossilsتھائی لینڈ میں 27 ٹن وزنی دیو ہیکل ڈائنوسار دریافت، جنوب مشرقی ایشیا کا سب سے بڑا جانور
    • Humanoid Robots Shatter World Record in Half-Marathonانسانی روبوٹس نے نصف میراتھن کا عالمی ریکارڈ توڑ دیا، چین میں انقلابی پیشرفت
    • Train Travel's Hidden Benefit: Stress Relief Through Sceneryٹرین کے سفر میں مناظر کو دیکھنا ذہنی صحت کے لیے مفید، نئی تحقیق میں انکشاف
    سائنس اور ٹیکنالوجی
    • Elon Musk Summoned by French Justice in X Investigationایلون مسک: فرانسیسی عدالت کے سامنے پیشی کا نوٹس اور ایکس کے خلاف تحقیقات
    • Humanoid Robots Shatter World Record in Half-Marathonانسانی روبوٹس نے نصف میراتھن کا عالمی ریکارڈ توڑ دیا، چین میں انقلابی پیشرفت
    • EU's Age Verification App "Technically Ready" to Block Minorsیورپی یونین کا عمر کی تصدیق کرنے والا ایپ تیار، پندرہ سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا سے روکنے کی تیاری
    Geo Team
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    فنانس
  • شاعری

کشمیر میں پابندی کب تک؟ بھارتی سپریم کورٹ کا سوال

October 26, 2019 0 1 min read
Indian Supreme Court
Share this:

Indian Supreme Court

کشمیر (اصل میڈیا ڈیسک) کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کیے جانے کے بعد وہاں انسانی حقوق کی پامالی پر امریکی کانگریس کی جانب سے سخت تشویش کا اظہارکیا گیا ہے۔ ساتھ ہی بھارتی سپریم کورٹ نے بھی مودی حکومت کی سرزنش کی ہے۔

بھارتی سپریم کورٹ نے جموں و کشمیر میں عائد پابندیوں پر بھارت کی وفاقی حکومت کی سرزنش کرتے ہوئے پوچھا، ”اور کتنے دنوں تک آپ پابندیاں عائد کیے رکھنا چاہتے ہیں؟ اس بات کو دو ماہ سے زیادہ ہوچکے ہیں۔ آپ کو اس پر اپنا موقف واضح کرنا ہوگا یا دوسرے راستے تلاش کرنا ہوں گے۔”

یہ امر قابل ذکر ہے کہ نریندر مودی حکومت نے جموں و کشمیر کو حاصل خصوصی آئینی حیثیت کو پانچ اگست کو ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی ریاست کو دو حصوں، جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کر کے اسے مرکز کے زیر انتظام علاقہ قرار دے دیا تھا۔ حکومت نے اس غیر معمولی اقدم سے پیدا شدہ ممکنہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے وہاں سخت پابندیاں عائد کردی تھیں۔ متعدد افراد اور تنظیموں نے ریاست کی خصوصی آئینی حیثیت کو ختم کرنے اور وہاں عائد پابندیوں کے خلاف سپریم کورٹ میں مقدمات دائر کر رکھے ہیں اور عدالت انہی مقدمات کی سماعت کر رہی ہے۔

سپریم کورٹ نے دوران سماعت کہا، ”پابندیاں عائد کرنا حکومت کے دائرہ اختیار میں ہے لیکن اسے بہرحال اس فیصلے کا جائزہ بھی لینا ہوگا۔” سرکاری وکیل نے اس پر کہا کہ 90 فیصد پابندیاں ہٹا لی گئی ہیں اور ان کا روزانہ جائزہ بھی لیا جارہا ہے۔ اس پر سپریم کورٹ نے حکومت سے انٹرنیٹ پر عائد پابندیوں کے بارے میں بھی سوال کیا اور کہا کہ حکومت کو لوگوں کو کمیونیکیشن کا یہ ذریعہ فراہم کرنا ہوگا۔ سپریم کورٹ کے ججوں نے سرکاری وکیل کی اس دلیل کو بھی مسترد کردیا کہ انٹرنیٹ کو اس لیے بند رکھا گیا ہے تاکہ سرحد پار سے ہونے والی حرکتوں کو روکا جاسکے۔ بنچ نے کہا، ”ہمیں معلوم ہے کہ کیا کرنا ہے، ہم نے حکم دے دیا ہے اور اب ہم اسے بدلنے والے نہیں ہیں۔”

اس دوران بھارتی وزارت خارجہ نے امریکی کانگریس کی خارجہ کمیٹی میں کشمیرکے حوالے سے بھارت کے فیصلے اور وہاں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر ہونے والی بحث پرناراضگی کا اظہار کیا گیا ہے۔

بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کے حوالے سے امریکی کانگریس کے بعض اراکین نے افسوس ناک تبصرے کیے ہیں۔ رویش کمار کا کہنا تھا کہ ان تبصروں سے ان امریکی اراکین کانگریس کی ‘محدود فہم‘ کا پتہ چلتا ہے اور انہیں ہندوستانیوں کو حاصل بنیادی حقوق اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے کام کرنے کے طریقہ کا اندازہ نہیں ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا، ”کمیٹی کے اراکین کو بھارت کے فیصلے پر نکتہ چینی کرنے کے بجائے سرحد پار سے کشمیر میں ہونے والی اسپانسرڈ دراندازی کی مذمت کرنا چاہیے تھی۔ یہ افسوس ہے کہ کچھ اراکین نے کشمیر کے عوام کی بہتری اور کشمیر میں امن و سکون برقرار رکھنے کے مقصد سے اٹھائے گئے اقدامات پر سوال کھڑے کیے ہیں۔”

بھارتی وزارت خارجہ نے امریکی کانگریس کی خارجہ کمیٹی میں کشمیرکے حوالے سے بھارت کے فیصلے اور وہاں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر ہونے والی بحث پرناراضگی کا اظہار کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ امریکی کانگریس کی ذیلی کمیٹی کے سامنے جمعرات 24 اکتوبر کو جنوبی ایشیا میں انسانی حقوق کی صورتحال پرسماعت کے موقع پر کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پربحث و مباحثہ ہوا تھا۔ اس میں بھارتی گواہ آرتی ٹیکو سنگھ نے کہا تھا کہ میڈیا میں کشمیر کی اصل صورتحال پیش نہیں کی جا رہی۔ ایک اور گواہ ڈاکٹر نتاشا کور کا کہنا تھا، ”ہم جس چیز کے خواہش مند ہیں وہ ہیں انسانی حقوق، جمہوریت، اور آزادی۔ آزادی کا معاملہ یہ ہے کہ برسوں سے، لوگوں کو محض پرامن طور پر جمع ہونے کی پاداش میں، متعدد بار گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ لازم ہے کہ (بھارت کی) حکومت اس بات کو تسلیم کرے اور کہے کہ ہم معافی چاہتے ہیں۔‘‘

یہاں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا پہلے بھی کشمیر میں انسانی حقوق کا معاملہ اٹھاتا رہا ہے۔ گوکہ بھارت کا کہنا ہے کہ یہ اس کا داخلی معاملہ ہے لیکن اگر انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوگی تو آوازیں تو ضرور اٹھیں گی۔ اور امریکی کانگریس میں کشمیر پر بحث سے یہ بات بھی ایک بار پھر واضح ہوگئی ہے کہ یہ ایک عالمی مسئلہ ہے۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ امریکی انتظامیہ کے افسران کا ایک وفد کشمیر جانا چاہتا تھا لیکن نئی دہلی نے یہ کہتے ہوئے اجازت دینے سے انکار کردیا کہ کشمیر جانے کے لیے یہ مناسب وقت نہیں ہے۔

Share this:
Britannien Brexit
Previous Post بریگزٹ ڈیڈ لائن میں ممکنہ توسیع کے بعد کیا کیا کچھ ممکن ہے؟
Next Post پمز اسپتال میں زیر علاج آصف زرداری کے بھی پلیٹیلیٹس کم ہو کر 90 ہزار رہ گئے
Asif Ali Zardari

Related Posts

Cannes’ Longest Ovation Masks an Awkward Truth

کان فلم فیسٹیول: 16 منٹ کی تاریخی تالیاں، لیکن کیا یہ پام ڈی اور کی ضمانت ہے؟

May 23, 2026
France Bans Israeli Minister Over Gaza Flotilla Incident

فرانس نے اسرائیلی وزیر بن گویر کی ملک میں انٹری پر پابندی لگا دی، یورپی پابندیوں کا مطالبہ

May 23, 2026
Actor Momina Iqbal Seeks FIR Against PML-N MPA

اداکارہ مومنہ اقبال کی ایم پی اے ثاقب چدھڑ کے خلاف ہراسگی کی درخواست، وزیراعلیٰ نے سیاسی دباؤ ڈالنے پر سخت کارروائی کی وارننگ دے دی

May 23, 2026
Pakistan Busts Ring Selling Officials' Data

چند ہزار روپے میں سرکاری افسران کا ڈیٹا فروخت کرنے والا نیٹ ورک بے نقاب، چار ملزمان گرفتار

May 23, 2026

Popular Posts

1 Grant Flower

پاکستان ٹیم کے کچھ کھلاڑیوں کیلئے خطرہ دکھائی دے رہا ہے: بیٹنگ کوچ

2 Katrina Kaif

کترینہ کا پاکستانی اداکارہ بننے سے انکار

3 Manchester knife Attack

مانچسٹر میں چاقو کے حملے میں تین افراد زخمی

4 New Year's Celebration

دنیا بھر میں رنگا رنگ آتش بازی اور برقی قمقموں کی چکا چوند کے ساتھ نئے سال کا آغاز

5 Bilawal Bhutto

صدر زرداری اجازت دیں تو ایک ہفتے میں پی ٹی آئی حکومت گرا سکتے ہیں: بلاول بھٹو

6 Qadir Ali

پی بی 26 ضمنی انتخاب: ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے قادر علی نے میدان مار لیا

© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.