geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • Geo Team
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • فنانس
  • شاعری
Dark Mode
Skip to content
May 12, 2026
  • Geo Urdu France
  • Prayer Times
  • Finance
  • Currency Rate
  • Gold Rates
  • ENGLISH
  • –
  • FRENCH
geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم
    • 83% of French Parents Report Verbally Abusing Their Childrenفرانس میں والدین کی بڑی تعداد بچوں کے ساتھ تشدد کا اعتراف، نئی رپورٹ میں ہوش ربا انکشافات
    • Why Turkey Eggs Are Rarely on Our Platesکیا آپ نے کبھی ترکی کے انڈے کھائے ہیں؟ غذائیت سے بھرپور مگر بازار میں نایاب
    • Crushed Empress Eugénie's Crown Revealed After Louvre Heistلوور میوزیم نے شہنشاہ نگار کے تاریخی تاج کی تباہ حال تصاویر جاری کردیں
    صحت و تندرستی
    • Pakistan Cracks Down on Unsafe Syringes Amid HIV Surgeایچ آئی وی کے بڑھتے کیسز: ڈریپ کا غیر محفوظ سرنجوں کے خلاف ملک گیر کریک ڈاؤن کا حکم
    • France Launches Spring COVID-19 Booster Campaign for Most Vulnerableفرانس میں موسم بہار کے لیے نئی کورونا ویکسینیشن مہم کا آغاز، بوڑھوں اور کمزور افراد کو ترجیح
    • Pakistan's HIV Crisis: Unsafe Injections Fuel 500% Death Surgeانجیکشن کلچر اور ناقص نفاذ نے پاکستان میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کو ہوا دی
    دلچسپ اور عجیب
    • Humanoid Robots Shatter World Record in Half-Marathonانسانی روبوٹس نے نصف میراتھن کا عالمی ریکارڈ توڑ دیا، چین میں انقلابی پیشرفت
    • Train Travel's Hidden Benefit: Stress Relief Through Sceneryٹرین کے سفر میں مناظر کو دیکھنا ذہنی صحت کے لیے مفید، نئی تحقیق میں انکشاف
    • 83% of French Parents Report Verbally Abusing Their Childrenفرانس میں والدین کی بڑی تعداد بچوں کے ساتھ تشدد کا اعتراف، نئی رپورٹ میں ہوش ربا انکشافات
    سائنس اور ٹیکنالوجی
    • Elon Musk Summoned by French Justice in X Investigationایلون مسک: فرانسیسی عدالت کے سامنے پیشی کا نوٹس اور ایکس کے خلاف تحقیقات
    • Humanoid Robots Shatter World Record in Half-Marathonانسانی روبوٹس نے نصف میراتھن کا عالمی ریکارڈ توڑ دیا، چین میں انقلابی پیشرفت
    • EU's Age Verification App "Technically Ready" to Block Minorsیورپی یونین کا عمر کی تصدیق کرنے والا ایپ تیار، پندرہ سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا سے روکنے کی تیاری
    Geo Team
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    فنانس
  • شاعری

جنگ ستمبر اور وادی کشمیر

September 5, 2020September 5, 2020 0 1 min read
Pakistan Defense Day
Share this:

Pakistan Defense Day

تحریر : محمد مظہر رشید چودھری

پاکستان اور بھارت کے درمیان وادی کشمیر کولے کر تین بڑی اور دو محدود پیمانے پر جنگیں ہو چکی ہیں، مقبوضہ وادی کشمیر کے 85 لاکھ سے زائد مسلمانوں پر تادم تحریربھارتی فوج کا ظلم وستم جاری ہے ،جس کی وجہ بھارت اور پاکستان کے تعلقات میں بہتری کی صورت نظر نہیں آتی ، 73سال میں کئی مواقعوں پر تعلقات میں بہتری کے لئے جو کوششیں کی گئیں وہ بھی جلد ہی مقبوضہ وادی کشمیر پر بھارتی حکومت کی ہٹ دھرمی اوربھارتی فوج کے زبردستی تسلط کی نظر ہوگئیں ، بھارتی حکومت کشمیر کے مسئلہ پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق عمل کرنے سے گریزاں ہے ،6 ستمبر کا دن وطن عزیز پاکستان کے دفاع کیلئے عظیم قربانیوں کی یاد دلاتا ہے ا س دن کو یوم دفاع کے طور پر پاکستانی قوم مناتی ہے۔

پاک افواج نے اپنی سرحدوں کی حفاظت کا حق ادا کرتے ہوئے پاک سرزمین کے ایک ایک انچ کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے ،1965کی جنگ میں پاک فوج نے ملک کی سرحدوں کا دفاع بہادری جرات اورباوقار انداز میں موثر بنایا اور ثابت کر دکھایا کہ ہم ایک زندہ اور بہادر قوم ہیں،6 ستمبر 1965 کو بھارتی افواج نے لاہورکی جانب سے وطن عزیز پاکستان پر حملہ کیا، جنگ ستمبر میں قوم کے بہادر سپوتوں نے جان کے نذرانے پیش کیے،پاک افواج کے جوانوں نے 55 سال قبل ازلی دشمن بھارت کی جانب سے رات کو کئے گئے بزدلانہ حملے کو جواں مردی سے ناکام بناتے ہوئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے ،یہ اْن شہداء کی قربانیوں کا ہی نتیجہ ہے کہ آج ہم آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں،چھ ستمبر 1965 کی رات کو بھارتی فوج نے جنگ کا اعلان کیے بغیر بین الاقوامی سرحد کو پار کرتے ہوئے پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کی بھارتی جرنیلوں کا منصوبہ تھا کہ چھ ستمبر کی صبح لاہور میں اُس وقت کے بھارتی وزیراعظم لال بہادر شاستری کو سلامی دیں گے اور شام کو لاہور جیم خانہ میں کاک ٹیل پارٹی کے دوران بیرونی دنیا کو خبردیں گے،لیکن بھارتی جرنیلوں کے ارادے اور منصوبے اس وقت ناکام ہونے لگے جب اُسکی افواج کو مختلف محاذوں پر پسپائی ملی۔

سانچ کے قارئین کرام! جنگِ ستمبر 1965کے دوران بھارتی فوج نے 17 دن میں 13 حملے کئے بھارتی افواج تعداد اور جنگی ساز و سامان کے حوالے سے کئی گناہ طاقتور تھی جبکہ پاکستانی فوج تعداد اور تیاری کے حساب سے بھارت سے کم تھی لیکن پاکستانی افواج کے جوانوں نے اپنی جانوں پر کھیل کر مسلسل 17 دن تک دشمن کو لاہور میں داخل ہونے سے روکے رکھا اور بھارتی افواج کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا،لاہور میں پاک فوج کی 150 سپاہیوں کی ایک کمپنی نے 12 گھنٹے تک ہندوستان کی ڈیڑھ ہزار فوج کو روکے رکھا جس سے ہماری پیچھے موجود فوج کو دفاع مزیدمضبوط کرنے کا بھر پور موقع ملا،6 ستمبر 1965ء کو جب بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو میجر عزیز بھٹی لاہور سیکٹر میں برکی کے علاقے میں ایک کمپنی کی کمان کررہے تھے کمپنی کے دو پلاٹون بی آر بی نہر کے دوسرے کنارے پر متعین تھے میجر عزیز بھٹی نے نہر کے اگلے کنارے پر متعین پلاٹون کے ساتھ آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا ان حالات میں جب کہ دشمن تابڑ توڑ حملے کررہا تھا اور اسے توپ خانے اور ٹینکوں کی پوری پوری امداد حاصل تھی میجر عزیز بھٹی اور ان کے جوانوں نے آہنی عزم کے ساتھ لڑائی جاری رکھی اور اپنی پوزیشن پر ڈٹے رہے 9 اور 10 ستمبر کی درمیانی رات کو دشمن نے اس سارے سیکٹر میں بھرپور حملے کے لیے اپنی ایک پوری بٹالین جھونک دی میجر عزیز بھٹی کو اس صورتحال میں نہر کے اپنی طرف کے کنارے پر لوٹ آنے کا حکم دیا گیا مگر جب وہ لڑ بھڑ کر راستہ بناتے ہوئے نہر کے کنارے پہنچے تو دشمن اس مقام پر قبضہ کرچکا تھا تو انہوں نے ایک انتہائی سنگین حملے کی قیادت کرتے ہوئے دشمن کو اس علاقے سے نکال باہر کیا اور پھر اس وقت تک دشمن کی زد میں کھڑے رہے جب تک ان کے تمام جوان اور گاڑیاں نہر کے پار نہ پہنچ گئیں۔

انہوں نے نہر کے اس کنارے پر کمپنی کو نئے سرے سے دفاع کے لیے منظم کیا دشمن اپنے چھوٹے ہتھیاروں،ٹینکوں اور توپوں سے بے پناہ آگ برسا رہا تھادشمن کی راہ میں اس محاذ پر سب سے بڑی رکاوٹ میجر راجہ عزیز بھٹی تھے ان کی نشانہ لگوانے کی خدا داد صلاحیت نے بھارتی فوج کو ناکوں چنے چبوا دئیے تھے آپ کے ساتھی بھی آپکے ہر حکم پر جان کی پرواہ کئے بغیر ایک پل کے وقفے میں اس طرح عمل کرتے تھے کہ ان کو خود پر حیرت ہوتی تھی۔اس محاذ پر گزشتہ چھ دن اور چھ راتوں سے دشمن کا اس قدر جانی اور مالی نقصان ہو چکا تھا کہ جس کا تصور بھی محال تھا۔بار بار کی ناکامی اور مسلسل نقصان نے دشمن کو اعصابی دباؤ کا شکار کر دیا تھا اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ ذ ہنی طور پر بھارتی فوج اس محاذ پر ایک سو پچاس (150) مسلمان فوجیوں کی مختصر نفری سے شکست کے جان لیوا احساس کمتری میں مبتلا ہو چکی تھی۔ ان کی ہزاروں کی نفری صفر ہو کر رہ گئی تھی اب تک اس محاذ پر اس کے سینکڑوں فوجی جہنم رسید ہو چکے تھے جبکہ جواب میں پاکستانی فوج کے صرف گیارہ (11) جوان شہید ہوئے تھے۔12 ستمبر 1965 کا دن میجر عزیز بھٹی نے وضو کیا۔ فجر کی نماز ادا کی۔ شیو بنائی بالوں میں کنگھی کی۔

تیار ہو گئے تو خادم چائے لے آیا۔چائے سے فارغ ہوئے تو وردی لانے کا حکم دیا۔ پتہ چلا کہ ان کی وردی تیار نہیں ہے۔ خادم کسی اور کی تیار وردی لے آیا تو میجر عزیز بھٹی نے انکار کر دیا اور ایک تاریخی فقرہ کہا:جوان وردی اور کفن اپنا ہی اچھا لگتا ہے۔یہ کہہ کر میجر نے قدم پٹڑی کی جانب بڑھا دئیے جہاں کھڑے رہ کر انہیں آج بھی اپنے دستے کے لئے او پی کے فرائض سر انجام دینا تھے۔بھارتی فوج کی فائرنگ صبح کاذب سے شدت کے ساتھ جاری تھی۔ یوں لگتا تھا کہ اس کے پاس اتنا وافر اسلحہ ہے کہ وہ بے دریغ چلائے جا رہی ہے۔ گولے میجر عزیز بھٹی کے دائیں بائیں گر رہے تھے۔ دو تین گولے ان سے آگے چند گز کے فاصلے پر بھی گر کر پھٹے۔سر۔۔۔۔ فائر آ رہا ہے۔ نیچے آجائیں۔حوالدار فیض علی نے پکار کر کہا۔ میجر عزیز بھٹی نے ہنس کر کہا کتنی بار کہہ چکا ہوں کہ پٹڑی سے نیچے دشمن پر نگاہ رکھنا ممکن نہیں اور ویسے بھی جو مزہ اس گولہ باری کی بارش میں کھڑے رہ کر فرض ادا کرنے میں ہے وہ محفوظ مقام پر کہاں!اسی وقت عزیز بھٹی نے دیکھا کہ برکی کی طرف سے چند بھارتی ٹینک تیزی سے نہر کی جانب بڑھے چلے آ رہے ہیں۔ انہوں نے فوراََ توپ خانے کو اس طرف گولہ باری کا حکم دیا۔ فائر ٹھیک نشانے پر لگا۔ بھارتی ٹینک بچوں کے کھلونوں کی طرح فضا میں اچھلے اور آگ کے شعلوں میں گھرے زمین پر گر پڑے۔شاباش خوش ہو کر میجر عزیز بھٹی نے توپچی کو داد دی۔ اسی وقت ایک گولہ ان کے سامنے موجود درختوں پر آ کر گرا۔ آگ، گردوغبار اور دھماکوں کا ایک طوفان اٹھا مگر میجر عزیز بھٹی کو خراش تک نہ آئی۔

ساڑھے نو صبح کا وقت تھا جب دشمن کے ایک توپچی نے گولہ فائر کیا۔گولہ فضا میں بلند ہوا۔آگ کا دہکتا ہوا وہ گولہ سیدھا میجر راجہ عزیز بھٹی کے سینے سے آ ٹکرایا اور پھیپھڑے پھاڑتا ہوا نکل گیا۔میجر عزیز بھٹی اچھلے اور لڑکھڑا کر گر پڑے آپ نے فرض کی ادائیگی میں جام شہادت نوش کیا،بھارت کا پسندیدہ اور اہم محاذچونڈہ کے سیکٹر پر تھا، پاکستانی فوج کے جوانوں نے اسلحہ وبارود سے نہیں اپنے جسموں کے ساتھ بم باندھ کر بھارتی فوج اور ٹینکوں کااُسے قبرستان بنادیا۔ بھارت کا نقصان اور تباہی کو دیکھ کر پاکستانی افواج کی دلیری وبہادری کی مثالیں آج تک دی جاتی ہیں،ستمبر1965میں نیوی کی جنگی سرگرمیاں بھی دیگر دفاعی اداروں کی طرح قابل فخر ہیں اعلان جنگ ہونے کے ساتھ بحری فوجی یونٹس کو متحرک کر کے اپنے اپنے اہداف کی طرف روانہ کیا گیا کراچی بندرگاہ کے دفاع کے ساتھ ساتھ ساحلی پٹی پر پٹرولنگ کا سلسلہ جاری رہا پوری جنگ کے دوران پاکستان کا سامان تجارت لانے لے جانے والے بحری جہاز بلا روک ٹوک اپنا سفر کرتے رہے یہاں تک کہ بھارتی بحریہ کو بندرگاہوں سے باہر تک نہ آنے دیا، بھارت کے تجارتی جہاز” سرسوتی” اوردیگر کافی عرصہ تک پاکستان میں زیر حراست وحفاظت کراچی کی بندرگاہ میں رہے، 7ستمبر1965 کا دن پاکستان کی فتح اور کامیابیوں کا دن تھااُس وقت پاکستان کی واحد آبدوزپی این ایس غازی جس میں پاکستان نیوی کا بحری بیڑا شامل تھا،بھارت کے ساحلی مستقر”دوارکا”پرحملہ کے لیے روانہ ہوئی صرف 20منٹ تک دوار کا پر حملہ جاری رہا توپوں کے دھانے کھلے اور چند منٹ میں دوار کا تباہ ہو گیا پی این ایس غازی کا خوف بھارت کی نیوی پر اس قدر تھا کہ بھارتی فلیٹ بندرگاہ سے باہر آنے کی جرات نہ کرسکا بھارتی جہاز”تلوار”کو پاکستانی بیڑے کا سراغ لگانے کے لیے بھیجا گیا مگر وہ بھی”غازی” کے خوف سے کسی اور طرف نکل گیا۔ پاک فضائیہ نے اپنے دشمن کے خلاف ہوا باز وں کو تیار کر رکھا تھاہمارے ہوا بازوں نے7ستمبر کو اپنے اپنے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے دشمن پر جھپٹے ایک طرف سکوارڈرن لیڈر ایم ایم عالم جیسے سپوت نے ایک منٹ سے بھی کم وقت میں دشمن کے پانچ جہازوں کومار گرایاتو دوسری طرف سکوارڈرن لیڈر سر فراز رفیقی اور سکوارڈرن لیڈر منیر الدین اور علاؤالد ین جیسے شہیدوں نے بھی وطن کی خاطر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے۔

سانچ کے قارئین کرام! قومی وسماجی تحریک موومنٹ اگیسنٹ ڈرگ ابیوز”ماڈا” رجسٹرڈ اوکاڑہ ،کے عہدیداروں اور ممبران نے سابقہ سالوں کی طرح امسال بھی یوم دفاع کے موقع پر پاک فوج کے شہداء ،پولیس کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے چھ ستمبر کو ضلع کی حدود میں جہاں جہاں شہداء مدفوں وہاں انکی قبروں پر مقامی افراد کو شامل کر کے فاتحہ خوانی اور پھولوں کی چادر چڑھانے کا پروگرام ترتیب دیا ہے جس کے لیے آگہی پروگرام بھی منعقد کیے جارہے ہیں،سانچ کے قارئین کرام! نشانِ حیدر پاکستان کا سب سے بڑا فوجی اعزاز ہے جو اب تک پاک فوج کے دس جوانوں کو مل چکا ہے، جبکہ ایک کو ہلال کشمیر سے نوازا گیا جو کہ پاکستان کے نشان حیدر کے مساوی ہے۔ پاکستان کی فضائیہ کی تاریخ اور پاکستان کی بری فوج کے مطابق نشانِ حیدر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نام پر دیا جاتا ہے کیونکہ ان کا لقب حیدر کرار تھا اور ان کی بہادری ضرب المثل ہے۔ یہ نشان صرف ان لوگوں کو دیا جاتا ہے۔

جو وطن کے لیے انتہائی بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے شہید ہو چکے ہوں۔ ان میں میجر طفیل نے سب سے بڑی عمر یعنی 44 سال میں شہادت پانے کے بعد نشان حیدر حاصل کیا، باقی فوجی جنہوں نے نشان حیدر حاصل کیا ان کی عمریں 40 سال سے بھی کم تھیں جبکہ سب سے کم عمر نشان حیدر پانے والے راشد منہاس تھے جنہوں نے اپنی تربیت میں 20 سال 6 ماہ کی عمر میں شہادت پر نشان حیدر اپنے نام کیا۔ آج تک پاکستان میں صرف دس افراد کو نشانِ حیدر دیا گیا ہے ،اور ایک کو ہلال کشمیر سے نوازا گیا ہے ۔27 جولائی 1948کیپٹن راجہ محمد سرور2/1 پنجاب رجمنٹ پاک بھارت جنگ 1947 ، 7 اگست 1958میجر طفیل محمدسولہویں پنجاب رجمنٹ مشرقی پاکستان رائفل پاک بھارت جنگ 1965 ، 10 ستمبر 1965راجہ عزیز بھٹی17 پنجاب رجمنٹ پاک بھارت جنگ 1965 ، 20 اگست 1971راشد منہاس نمبر۔ 2 فائٹر کنورڑن یونٹ، پاک فضائیہ پائلٹ آفیسرپاک بھارت جنگ 1971، 6 دسمبر 1971میجر شبیر شریف6 فرنٹیئر فورس رجمنٹ پاک بھارت جنگ 1971، 10 دسمبر 1971سوار محمد حسین20 لانسرز (آرمرڈ کور)، پاک فوج سوارپاک بھارت جنگ 1971، 5 دسمبر 1971میجر محمد اکرم 4 فرنٹئیر فورس رجمنٹ پاک بھارت جنگ 1971، 17 دسمبر 1971لانس نائیک محمد محفوظ15 پنجاب رجمنٹ پاک بھارت جنگ 1971 ،7 جولائی 1999کرنل شیر خان سندھ رجمنٹ/12 ناردرن لائٹ انفنٹری کارگل جنگ ، 7 جولائی 1999حوالدار لالک جان12 ناردرن لائٹ انفنٹری، نائیک سیف اللہ جنجوعہ (ہلال کشمیر)ان کو ہلال کشمیر سے نوازا گیا جو کہ پاکستان کے نشان حیدر کے مساوی ہے۔ضلع اوکاڑہ کی پولیس کے جوانوں نے بھی ضلع میں امن کے قیام کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے ہیں ہمارے ضلع کے ایک سپوت طیب سعید شہید ایس پی ناروال نے ڈاکوؤں سے مقابلہ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا ضلع بھر میں 36پولیس اہلکار ہیں جنھوں نے شہریوں کی حفاظت کے لیے ڈاکوؤں سے مقابلہ کرتے ہوئے اپنی جانیں قربان کیں۔معروف شاعر احمد فراز کی ایک خاص نظم قارئین کرام چھ ستمبر کے حوالہ سے کالم کا حصہ بنا رہا ہوں،دائم آباد تیری حسیں انجمن ،اے وطن۔۔۔ اے وطن ،تیرے کھیتوں کا سونا سلامت رہے ،تیرے شہروں کا سکھ تا قیامت رہے ،تاقیامت رہے یہ بہارِ چمن ،اے وطن۔۔۔ اے وطن ،تیری آباد گلیاں مہکتی رہیں،تیری راہیں فضائیں چمکتی رہیں،مسکراتے رہیں تیرے کوہ و دمن ،اے وطن۔۔۔ اے وطن ،تیرے بیٹے تری آبرو کے لئے ،یوں جلائیں گے اپنے لہو کے دیے ،پھوٹ نکلے گی تاریکیوں سے کِرن ،اے وطن۔۔۔ اے وطن ، دائم آباد تیری حسیں انجمن٭
MUHAMMAD MAZHAR RASHEED

تحریر : محمد مظہر رشید چودھری

Share this:
Democracy
Previous Post آخری اور واحد راستہ
Next Post سلام شہدائے وطن
Defense Day of Pakistan

Related Posts

Sarkozy Shifts Strategy in Libyan Funding Appeal Trial

نکولس سرکوزی کی لیبیا فنڈنگ کیس میں آزمائش: سابق صدر نے گوانٹ کے الزامات کی تردید کی لیکن پرانے ساتھی کو بچایا

April 29, 2026
US-Iran War: Truce Talks Continue Amid Strikes

امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی کوششیں، ٹرمپ کا ٹیلی فونک رابطے کا انکشاف

April 29, 2026
Pakistan Strikes Afghan Taliban in Operation Ghazab lil-Haq

آپریشن غضب للہ حق: افغان طالبان کے 796 دہشت گرد ہلاک، 286 چوکیاں تباہ

April 29, 2026
Pakistan Transfers Three IHC Judges Amid Controversy

اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججوں کی منتقلی کا نوٹیفکیشن جاری

April 29, 2026

Popular Posts

1 Grant Flower

پاکستان ٹیم کے کچھ کھلاڑیوں کیلئے خطرہ دکھائی دے رہا ہے: بیٹنگ کوچ

2 Katrina Kaif

کترینہ کا پاکستانی اداکارہ بننے سے انکار

3 Manchester knife Attack

مانچسٹر میں چاقو کے حملے میں تین افراد زخمی

4 New Year's Celebration

دنیا بھر میں رنگا رنگ آتش بازی اور برقی قمقموں کی چکا چوند کے ساتھ نئے سال کا آغاز

5 Bilawal Bhutto

صدر زرداری اجازت دیں تو ایک ہفتے میں پی ٹی آئی حکومت گرا سکتے ہیں: بلاول بھٹو

6 Qadir Ali

پی بی 26 ضمنی انتخاب: ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے قادر علی نے میدان مار لیا

© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.