geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    • کالم
    • صحت و تندرستی
    • دلچسپ اور عجیب
    • سائنس اور ٹیکنالوجی
    • Geo Team
  • دیگر
    • أوقات الصلاة
    • بچوں کے نام
      • مسلم
      • عیسائی
      • ہندو
    • فنانس
  • شاعری
Dark Mode
Skip to content
July 27, 2026
  • Geo Urdu France
  • Prayer Times
  • Finance
  • Currency Rate
  • Gold Rates
  • ENGLISH
  • –
  • FRENCH
geourdu logo
  • صفحۂ اول
  • خبریں
  • دنیا
  • پاکستان
  • فرانس
  • سپین
  • کھیل
  • شوبز
  • کاروبار
  • معلومات
    کالم
    • Why You Must Shower After Swimming, Per Dermatologistsسمندر یا پول میں تیراکی کے بعد نہانا محض صفائی نہیں، طبی ماہرین نے لازمی قرار دے دیا
    • US and Iran Halt Fire Again in Ormuz Strait Standoffآبنائے ہرمز پر دشمنی کا نیا خاتمہ، بحری آمد و رفت بحال؛ قطر میں تکنیکی مذاکرات متوقع
    • Heatwave Survival Guide for Summer Travelersگرمی کی لہر میں سفر: ماہرین کی انتباہات اور چھٹیاں محفوظ بنانے کے 7 سنہری اصول
    صحت و تندرستی
    • Why You Must Shower After Swimming, Per Dermatologistsسمندر یا پول میں تیراکی کے بعد نہانا محض صفائی نہیں، طبی ماہرین نے لازمی قرار دے دیا
    • France Braces for New Heatwave with Temperatures Soaring to 42°Cفرانس میں نئی قیامت خیز گرمی کی لہر، درجہ حرارت 42 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا امکان
    • WMO Warns Strong El Niño to Develop Rapidly by Fallال نینو ستمبر تک طاقتور صورت اختیار کر لے گا، عالمی ادارے کی شدید موسم کی وارننگ
    دلچسپ اور عجیب
    • فرانس میں تاریخی قدم: بچوں کے ویڈیو گیم ‘پاپینز’ کی قیمت سوشل سیکیورٹی سے ادا کرنے کی سفارش
    • Southern France on Red Alert as Wildfire Danger Peaksفرانس میں جنگلات کی آگ کا ریڈ الرٹ: چھ اضلاع انتہائی خطرے کی زد میں، تیز ہوائیں پریشانی کا باعث
    • Wikipedia Founder Rejects AI for Article Editingوکیپیڈیا کے شریک بانی کا اے آئی ایڈیٹنگ کو مسترد کرنے کا اعلان، ’ہیلوسینیشنز‘ کو سنگین مسئلہ قرار دے دیا
    سائنس اور ٹیکنالوجی
    • Meta Smart Glasses: The Hidden Privacy Threat in Plain Sightمیٹا اسمارٹ گلاسز: فیشن ایبل چشمہ یا پوشیدہ نگرانی کا جدید ہتھیار؟
    • Google Launches AI Search Summaries in Franceگوگل نے فرانس میں اے آئی سرچ کا نیا انجن لانچ کر دیا: اب لنک پر کلک کیے بغیر ہی ملے گا جواب
    • France Bans Social Media for Under 15s From Sept 1فرانس میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کا قانون منظور: کیا یہ واقعی قابلِ عمل ہے؟
    Geo Team
  • دیگر
    أوقات الصلاة
    بچوں کے نام
    • مسلم
    • عیسائی
    • ہندو
    فنانس
  • شاعری

اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کی بڑھتی قربتیں

September 9, 2020 0 1 min read
Israel - UAE
Share this:

Israel - UAE

تحریر : حاجی محمد لطیف کھوکھر

اسرائیل کے غاصبانہ قیام کے بعد متحدہ عرب امارات تیسرا عرب ملک بن گیا ہے جس نے اسرائیل کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات باضابطہ طورپر قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔نیز یہ خلیج کی چھ عرب ریاستوں میں پہلا ملک ہے جس نے ایسا اقدام اٹھایا ہے یہ فیصلہ اچانک یا عجلت میں ہرگز نہیں کیا گیا بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین خفیہ سفارتی و دفاعی تعلقات برسوں سے قائم چلے آرہے تھے بس ان تعلقات کا اعلان آج کیا گیا ہے اس اعلان سے سب سے زیادہ نقصان فلسطینیوں کو ہوگاکیونکہ اِس معاہدہ میں فلسطین کے لئے کچھ بھی موجود نہیں ہے ،سوائے اس کے کہ ان پر اسرائیل کی جانب سے ہونے والے منظم ظلم و ستم میں کچھ مزید اضافہ کردیاجائے یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس معاہد ہ کے ثمرات کے نتیجہ میں متحدہ عرب امارات کی حکومت کو کیا کچھ حاصل ہوگا؟ جیسا کہ اِس معاہدہ کے بعد متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے ترجمانوں کی جانب سے بڑھ چڑھ کر بلند وبانگ دعوے کیئے جارہے ہیں۔

جبکہ اسرائیل کا ماضی تو یہ بتاتا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے ولی عہد اور حقیقی طور پر حکمرانی کرنے والے شیخ محمد بن زید کے لئے یہ معاہدہ ایک جوئے سے کم نہیں ہے ، سب سے اہم بات یہ ہے کہ اسرائیل جس طرح مصر اور ترکی کے ساتھ اپنے کئے گئے معاہدوں سے مکر گیا تھااگر ایسی ہی کوئی ملتی جلتی صورت حال متحدہ عرب امارات کے ساتھ بھی اختیار کرنے کی کوشش کی گئی اور اسرائیلی وزیر اعظم یتن یاہومعاہدہ میں درج اہم ترین شرط جیسے مغربی کنارے کو مزید الحاق نہ کرنے کے وعدے سے مکر گئے تو اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی یہ”سیاسی حرکت” اماراتی شیخ کے لیے کس حد تک شرمناک ہوگی ،اس کا فی الحال انداز ہ بھی نہیں لگایا جاسکتا۔ حقیقت تو یہی ہے کہ اسرائیل اپنے قیام کے بعد ہی مسلسل فلسطینی زمینوں پر قبضے اور یہودی بستیاں آباد کرتا چلا آرہا ہے اور دنیا بھر سے یہودیوں کو ان بستیوں میں آباد اور ان فلسطینی اراضی پر سربلند دیواریں اور آہنی تاریں اور حفاظتی ٹاور بنا کر انہیں محفوظ کیا جارہا ہے جبکہ اسرائیلی بستیوں کے لئے سینکڑوں سالوں سے مقیم فلسطینیوں کے گھروں، دکانوں اور آبادیوں کو زبردستی بلڈوز کیا جاتا ہے اور انہیں شدید جانی و مالی مشکلات کاسامنا رہتا ہے جبکہ مسمار گھروں کے ملبہ پر بیٹھے لاچار فلسطینی گھرانوں کی تصاویر بھی شائع ہوتی رہتی ہیں۔

غزہ، غرب اردن کی بستیوں پر یہ قیامت ڈھائی جا رہی ہے اور اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم کو گزشتہ ساٹھ ستر سال میں لگام نہیں دی جاسکی۔ متعددذرائع کے مطابق متحدہ عرب امارات کی عوام میں بھی اِس فیصلہ کے خلاف شدید غم و غصہ پایا جاتاہے اب وہ الگ بات ہے کہ یو اے ای کی عوام اس طرح سے اپنے خیالات اور جذبات کا اظہار نہیں کرسکتے جس طرح کی سہولت دیگر ممالک میں بسنے والے مسلمانوں کو حاصل ہے ، یاد رہے کہ گزشتہ کئی برس سے متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کی خفیہ تنظیم موساد کے ساتھ مل کر اپنے شہریوں کی جاسوسی کیلئے زبردست قسم کا نظام تشکیل دیا ہوا جس کی مدد سے اسرائیل دشمن خیالات کا اظہار کرنے والوں کی کڑی چھان بین کی جاتی ہے اور اکثر بیشتر انہیں گرفتار کرکے سخت سے سخت سزائیں بھی دے دی جاتی ہیں لیکن ان تمام تر حفاظتی انتظام کے باوجود بھی متحدہ عرب امارات کی سرکار کو خدشہ ہے کہ اسرائیل نواز پالیسیوں کے خلاف ان کی عوام کے اذہان میں ایک لاوا پک رہا ہے جوکسی بھی وقت آتش فشاں پہاڑ کی طرح پھٹ کر سب کچھ اپنے ساتھ بہاکر لے جاسکتاہے ۔

اسرائیل کو مشرق وسطیٰ میں سفارتی اعتبار سے مضبوط کرنے میں جہاں امریکہ کا ہاتھ موجود ہے وہاں مشرق وسطیٰ کی موجودہ معاشی صورتحال بھی اسے اسرائیل کے قریب لانے پر مجبور کررہی ہے جبکہ دوسری جانب یہ تلخ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان پائی جانے والی ”پراکسی وار”بھی اسرائیل کو غیر معمولی فائدہ پہنچارہی ہے ،بلا شبہ اس وقت امریکہ کا مشرق وسطیٰ کی سیاسی و معاشی صورتحال پر مکمل کنٹرول ہے اور ایسے میںمشرق وسطیٰ کے حوالے سے امریکہ کا نام نہاد ”امن منصوبہ ” اسرائیل کو کس قدر سفارتی تقویت فراہم کرسکتا ہے اس کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے جبکہ امریکی حلقوں بالخصوص اسرائیلی میڈیا کے حوالے سے یہ خبریں بھی آرہی ہیں کہ عرب ممالک میں سے ممکنہ طور پر” بحرین ” وہ اگلا ملک ہوگا جو اسرائیل کو تسلیم کرنے جارہا ہے لیکن ان خبروں میں کتنی صداقت ہے اس بارے میں فی الوقت کچھ نہیں کہا جاسکتا تاہم اس حوالے سے امریکی صدر ٹرمپ کے داماد اور وائٹ ہائوس کے مشیر جیرڈ کشنر دعویٰ کررہے ہیں کہ عرب ممالک کی ایک قطار ہے جو اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لئے تیار ہیں۔

معاملہ کچھ یوں ہے کہ اگلے برس مارچ میں اسرائیل میں نئے انتخابات ہونے جارہے ہیںاور ان انتخابات میں اسرائیل کے موجودہ وزیر اعظم نیتن یاہوکو ممکنہ طور پر کامیابی دلانے کے لئے یہ سب کچھ کیا جارہا ہے تاکہ اسرائیل کی مشرق وسطیٰ میںبالا دستی قائم کرنے کے امریکی منصوبے کا تسلسل قائم رکھا جاسکے اب ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر عرب ممالک ایک ایک کرکے اسرائیل کو تسلیم کرلیتے ہیںتو ایسے میں دیگر اسلامی ممالک کہاں کھڑے ہوں گے جبکہ فلسطینی ریاست کا تحفظ اور بیت المقدس کی آزادی کا فلسفہ ہر ایک مسلمان کے جذبہ ایمانی کا خاصہ ہے ۔ سرائیل سپر پاور امریکہ کے دبائو کے ذریعے عرب علاقوں پر اپنے موجودہ غاصبانہ قبضے کو عرب حکمرانوں سے تسلیم کروا رہا ہے جیسے ہی اس نے یہ ہدف حاصل کر لیا تو پھر گریٹراسرائیل کا قیام اس کے لئے شاید کوئی مشکل کام نہ رہے۔دور حاضر میں امت مسلمہ کا اصل مسئلہ بلکہ المیہ یہ ہے کہ ہمارے پاس کوئی ایسا جاندار اور مئوثر ادارہ یا فورم موجود نہیں جو مسلمانوں کے دلی جذبات کی صحیح ترجمانی کا حق ادا کرتے ہوئے باطل قوتوں کا سامنا کر سکے۔ بعض عرب ممالک اسرائیل کو تسلیم کرنا چاہتے ہیں لیکن انہیں اپنی عوام کی شدید مخالفت کا خوف ہے یہی وجہ ہے کہ امریکہ کی جھولی میں بیٹھ کر یہ سارا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔
Haji Mohammad Latif Khokhar

تحریر : حاجی محمد لطیف کھوکھر

Share this:
Rana Sanaullah
Previous Post نیب حملہ کیس؛ لیگی رہنما رانا ثنا اللہ کی عبوری ضمانت منظور
Next Post مجلس مذاکرہ بسلسلہ یوم نفاذ اردو: بمقام سماعت گاہ اسلانی نظریاتی کو نسل اسلام آباد
Urdu

Related Posts

Meta Smart Glasses: The Hidden Privacy Threat in Plain Sight

میٹا اسمارٹ گلاسز: فیشن ایبل چشمہ یا پوشیدہ نگرانی کا جدید ہتھیار؟

July 23, 2026
Google Launches AI Search Summaries in France

گوگل نے فرانس میں اے آئی سرچ کا نیا انجن لانچ کر دیا: اب لنک پر کلک کیے بغیر ہی ملے گا جواب

July 23, 2026
Wildfire Near Arcachon Forces 20,000 Evacuations

آرکاشوں کے قریب جنگل کی ہولناک آگ: 24 گھنٹوں میں 20 ہزار افراد کا انخلاء، 2400 ہیکٹر رقبہ خاکستر

July 23, 2026
DZ Mafia Denies Targeting Mayor in Video

ڈی زیڈ مافیا کی ویڈیو جاری، میئر کو دھمکیوں سے لاتعلقی کا اعلان: “ہمارے کاروبار کو نقصان پہنچ رہا ہے”

July 23, 2026

Popular Posts

1 Grant Flower

پاکستان ٹیم کے کچھ کھلاڑیوں کیلئے خطرہ دکھائی دے رہا ہے: بیٹنگ کوچ

2 Katrina Kaif

کترینہ کا پاکستانی اداکارہ بننے سے انکار

3 Manchester knife Attack

مانچسٹر میں چاقو کے حملے میں تین افراد زخمی

4 New Year's Celebration

دنیا بھر میں رنگا رنگ آتش بازی اور برقی قمقموں کی چکا چوند کے ساتھ نئے سال کا آغاز

5 Bilawal Bhutto

صدر زرداری اجازت دیں تو ایک ہفتے میں پی ٹی آئی حکومت گرا سکتے ہیں: بلاول بھٹو

6 Qadir Ali

پی بی 26 ضمنی انتخاب: ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے قادر علی نے میدان مار لیا

© 2026 Geo Urdu France. All rights reserved.

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.

ESC

Start typing to search...

↑↓ Navigate ↵ Open ESC Close

We use cookies to ensure you get the best experience on our website.