بنگلہ دیشی فوج کے سیکنڈ ان کمان لیفٹیننٹ جنرل قمر الحسن نے پاکستان کا ایک غیر معمولی دورہ کیا ہے۔ یہ دورہ گزشتہ کئی سالوں میں بنگلہ دیش کی جانب سے پاکستان کا پہلا اعلیٰ سطحی فوجی دورہ ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل حسن نے منگل کو راولپنڈی میں جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) کا دورہ کیا اور پاکستانی عسکری قیادت سے ملاقاتیں کیں۔
پاکستانی فوج کے میڈیا ونگ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، بنگلہ دیشی جنرل نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی (سی جے سی ایس سی) جنرل ساحر شمشاد مرزا سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں خطے کی سکیورٹی صورتحال، دوطرفہ فوجی تعاون، اور علاقائی امن و استحکام جیسے اہم معاملات پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔
آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر اور لیفٹیننٹ جنرل حسن کے درمیان ہونے والی ملاقات میں دونوں فریقین نے مضبوط دفاعی تعلقات کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ دونوں برادر ممالک کے درمیان پائیدار شراکت داری کو بیرونی اثرات سے محفوظ رکھنا ضروری ہے۔ آرمی چیف نے جنوبی ایشیا اور وسیع تر خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ کوششوں کی اہمیت کا اعادہ کیا۔
لیفٹیننٹ جنرل حسن نے اپنے وفد کے ہمراہ جوائنٹ اسٹاف ہیڈ کوارٹرز میں جنرل ساحر شمشاد مرزا سے بھی تفصیلی ملاقات کی۔ اس ملاقات میں دونوں فریقین نے باہمی اسٹریٹجک دلچسپی کے معاملات پر توجہ مرکوز کی اور دوطرفہ دفاعی تعاون کو بڑھانے کی راہیں تلاش کیں۔ دونوں اعلیٰ فوجی افسران نے فوجی تعلقات کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا اور اس شراکت داری کو کسی بھی بیرونی رکاوٹ سے محفوظ رکھنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات گزشتہ کئی سالوں سے تعطل کا شکار تھے۔ شیخ حسینہ کی 15 سالہ حکومت کے دوران دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی رہی۔ تاہم، شیخ حسینہ کی اقتدار سے بے دخلی کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات میں واضح بہتری آئی ہے۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران دونوں ممالک نے قیادت کی سطح پر کئی ملاقاتیں کی ہیں، جن کا مقصد باہمی تعلقات کو بحال کرنا ہے۔
یہ دورہ نہ صرف پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان فوجی تعلقات کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے، بلکہ یہ جنوبی ایشیا کی سیاست میں ایک نئے موڑ کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔ دونوں ممالک نے مضبوط دفاعی تعاون پر مبنی ایک محفوظ اور خوشحال مستقبل کے لیے مشترکہ وژن کا اشتراک کیا ہے۔
اس دورے کے بعد تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات میں مزید بہتری آئے گی، جس سے خطے میں امن و استحکام کو فروغ ملے گا۔ دونوں ممالک کے درمیان فوجی تعاون کو بڑھانے کے لیے مزید اقدامات کی توقع کی جا رہی ہے۔
