ہسپانوی وزیر خارجہ خوسے مانوئل البارس نے شام کے نئے قیادت کے سامنے پابندیوں کے خاتمے کی وکالت کرتے ہوئے کہا کہ یہ پابندیاں ایک مختلف دور کی ہیں۔ البارس نے دارالحکومت دمشق میں شام کے نئے صدر احمد الشرا سے ملاقات کی اور ملک کی تعمیر نو میں مدد کے لیے پابندیوں کے خاتمے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پابندیاں پچھلے حکومت کے خلاف تھیں، نہ کہ نئے قیادت یا شامی عوام کے خلاف۔ البارس نے شام کو 6 ملین یورو کی امداد کا وعدہ بھی کیا۔
شام میں بشار الاسد کے حکومت کے خاتمے کے بعد یورپی یونین کو فیصلہ کرنا ہے کہ کیا شام پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں گی۔ ہسپانیہ نے نئی قیادت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی ہے اور البارس نے کہا کہ نئی قیادت نے یورپی یونین کے ساتھ تعاون کے لیے کئی اہم وعدے کیے ہیں۔ البارس نے شام کو 11 ملین یورو کی امداد کا اعلان کیا، جس میں 6 ملین یورو انسانی امداد، 1.6 ملین یورو خوراک کی امداد، اور 3 ملین یورو مہاجرین کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔
شام کی نئی قیادت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے البارس نے احمد الشرا سے خواتین، مذہبی اور نسلی اقلیتوں کے مستقبل، کیمیائی ہتھیاروں کے کنٹرول، اور غیر قانونی منشیات کے لیبارٹریوں کے خاتمے جیسے اہم مسائل پر بات چیت کی۔ البارس نے کہا کہ انہیں نئی قیادت کی جانب سے مثبت جوابات ملے ہیں، جو اس بات کی ضمانت دیتے ہیں کہ شام یورپی یونین کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے۔
شام کی نئی قیادت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے البارس کی یہ کوشش ایک اہم قدم ہے۔ البارس نے کہا کہ ہسپانیہ شام کی تعمیر نو میں مدد کرنے کے لیے تیار ہے اور پابندیوں کے خاتمے سے شامی عوام کو فائدہ ہوگا۔ البارس کی یہ کوشش شام کے مستقبل کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔
