پیرس پولیس پریفیکچر نے چاٹو ڈی او اور اسٹراسبرگ بولیوارڈ کے کچھ کاروباری مراکز کو شام 8 بجے بند کرنے کے فیصلے کو مزید ایک ماہ کے لیے بڑھا دیا ہے۔ یہ فیصلہ 20 دسمبر سے نافذ تھا، جسے اب 21 فروری تک کے لیے توسیع دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد علاقے میں رات کے وقت ہونے والی شور شرابے، غیر قانونی سرگرمیوں اور عوامی جگہوں پر ہجوم کو کم کرنا ہے۔
پولیس پریفیکچر کے مطابق، رات گئے تک کھلے رہنے والے کچھ کاروباری مراکز، خاص طور پر ہیئر سیلون اور مینی کیور سیلون، کے باعث عوامی جگہوں پر غیر ضروری ہجوم جمع ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں شراب نوشی، جارحانہ رویے، منشیات کی خرید و فروخت اور دیگر غیر قانونی سرگرمیاں بڑھ جاتی ہیں۔ یہ صورتحال مقامی باشندوں کے لیے پریشانی کا باعث بنی ہوئی تھی، جنہوں نے بارہا پولیس سے اس مسئلے کے حل کی درخواست کی تھی۔
20 دسمبر سے نافذ ہونے والے اس فیصلے کے بعد سے علاقے میں نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے۔ مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ رات کے وقت شور شرابے میں کمی آئی ہے اور عوامی جگہوں پر ہجوم کم ہو گیا ہے۔ ڈیلفائن مارٹن، جو مقامی کمیونٹی کی صدر ہیں، کا کہنا تھا کہ “یہ دن اور رات کا فرق ہے۔ پہلے دن سے ہی ہمیں فرق محسوس ہوا۔ ہم نے ایک ایسی پر سکون فضا کو دوبارہ محسوس کیا ہے جو کووڈ لاک ڈاؤن کے علاوہ ہمیں کئی سالوں سے میسر نہیں تھی۔”
تاہم، پولیس کے مطابق، کچھ کاروباری مراکز اب بھی اس فیصلے کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ 20 دسمبر سے اب تک 17 کاروباری اداروں کو شام 8 بجے بند نہ ہونے پر جرمانہ کیا جا چکا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اگرچہ صورتحال میں بہتری آئی ہے، لیکن کچھ جگہوں پر ہجوم اور شور شرابے کی شکایات اب بھی موصول ہو رہی ہیں۔
یہ اقدام خاص طور پر ہیئر سیلون اور مینی کیور سیلون پر لاگو ہوتا ہے، جو اس علاقے میں کثیر تعداد میں موجود ہیں۔ تاہم، یہ فیصلہ بارز، ریستورانز یا ثقافتی مقامات پر لاگو نہیں ہوتا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس اقدام کے بعد سے علاقے میں غیر قانونی سرگرمیوں، منشیات کی خرید و فروخت اور عوامی جگہوں پر کوڑے کرکٹ کے ڈھیر میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔
پیرس پولیس پریفیکچر نے اس فیصلے کو مزید ایک ماہ کے لیے بڑھانے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام عوامی امن و امان کو بہتر بنانے اور مقامی باشندوں کی زندگیوں کو پر سکون بنانے کے لیے ضروری ہے۔
