بھارتی پولیس نے بالی وڈ اداکار سیف علی خان پر حملے کے مبینہ ملزم کی گرفتاری سے متعلق میڈیا رپورٹس کو مسترد کردیا ہے۔ گزشتہ دو دن سے بھارتی میڈیا میں خبریں گردش کر رہی تھیں کہ ممبئی پولیس نے سیف علی خان پر حملہ کرنے والے ملزم کو گرفتار کرلیا ہے۔ تاہم، پولیس نے ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی تک کسی بھی ملزم کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق، حملہ آور نے اپنے لباس تبدیل کرکے پولیس کو گمراہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ تاہم، سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعے مشتبہ شخص کی شناخت کی کوشش جاری ہے۔ پولیس نے یہ بھی بتایا کہ ملزم نے حملے سے قبل شاہ رخ خان کے گھر کی بھی ریکی کی تھی، لیکن سخت سکیورٹی کے باعث وہاں داخل ہونے میں ناکام رہا تھا۔ اس کے بعد اس نے سیف علی خان کو ٹارگٹ کیا اور ان کے باندرا والے گھر میں داخل ہونے کی کوشش کی۔
واضح رہے کہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب تقریباً 3 بجے سیف علی خان کے گھر میں ڈکیتی کی کوشش کی گئی تھی۔ سیف نے مزاحمت کی، جس کے دوران حملہ آور نے ان پر چاقو سے حملہ کردیا۔ اس حملے میں سیف کو 6 زخم آئے، جن میں سے 2 کافی گہرے تھے۔ ایک زخم ریڑھ کی ہڈی کے قریب تھا، جس کے بعد سیف کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا۔ گزشتہ روز ان کا آپریشن کیا گیا، جس کے دوران ریڑھ کی ہڈی سے چاقو کا 2.5 انچ کا ٹکڑا نکالا گیا۔
ریاست مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ نے اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ممبئی پولیس کو حملے کے سلسلے میں کچھ سراغ ملے ہیں اور جلد ہی اس معاملے میں بریک تھرو ہونے کی امید ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حملہ آور کی شناخت اور گرفتاری کے لیے تمام تر کوششیں جاری ہیں۔
سیف علی خان اس وقت ہسپتال میں زیر علاج ہیں اور ان کی صحت میں بتدریج بہتری آرہی ہے۔ ان کے خاندان اور مداحوں نے ان کی جلد صحت یابی کی دعائیں کی ہیں۔
