پولیس نے نپولیٹن گینگز کے 36 ارکان کو گرفتار کر لیا ہے جو لاکھوں یورو کی مالیت والی گھڑیاں چرانے کے لیے مشہور ہیں۔ اس کے علاوہ 25 دیگر افراد کی شناخت بھی کی گئی ہے جن کے خلاف یورپی سطح پر گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے گئے ہیں۔ یہ گروہ اپنے جرائم کے لیے سپین کے شہروں جیسے بارسلونا، ایبیزا، میڈرڈ اور ماربیلا کا رخ کرتے ہیں اور وہاں سے قیمتی گھڑیاں چراتے ہیں۔
ان گروہوں کا طریقہ کار انتہائی منظم ہے۔ وہ اپنے شکار کو گلیوں میں نشانہ بناتے ہیں اور گھڑی چرانے کے لیے طاقت کا استعمال کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ اکثر وہ موٹر سائیکل کا استعمال کرتے ہیں، جہاں ایک شخص گھڑی چراتا ہے جبکہ دوسرا موٹر سائیکل پر فرار ہوتا ہے۔ بعض اوقات وہ دوسری گاڑی کا بھی استعمال کرتے ہیں تاکہ چوری کی گئی گھڑی کو جلد از جلد اٹلی پہنچایا جا سکے۔
پولیس کے مطابق، گزشتہ سال ان گروہوں سے 12 قیمتی گھڑیاں برآمد کی گئیں جن کی مالیت 20 لاکھ یورو تک بتائی گئی ہے۔ ان میں سے کچھ گھڑیوں کی قیمت 2 لاکھ یورو سے بھی زیادہ تھی، جبکہ ایک گھڑی کی قیمت نصف ملین یورو تک پہنچ گئی۔ یہ گروہ نپولز کے مخصوص علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں اور کچھ کا تعلق کیمورا مافیا سے بھی ہے، جو منشیات اور اسلحہ کی سمگلنگ جیسے جرائم میں ملوث ہے۔
پولیس نے ان جرائم کو روکنے کے لیے خصوصی یونٹس تشکیل دیے ہیں، جن میں “رولیکس ٹیم”، “کرونوس ٹیم” اور “ٹائٹانی ٹیم” شامل ہیں۔ ان یونٹس نے گزشتہ برسوں میں کئی کامیاب کارروائیاں کی ہیں۔ 2022 میں صرف چھ ماہ کے دوران 230 چوروں کو گرفتار کیا گیا تھا۔
اس تازہ کارروائی میں، جو دو سال قبل شروع ہوئی تھی، پولیس نے اٹلی اور دیگر ممالک کے ساتھ مل کر کام کیا۔ یوروپول کی نگرانی میں ہونے والی اس کارروائی میں اٹلی کی پولیس نے بھی اہم کردار ادا کیا۔
ان گروہوں کے جرائم کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ کس طرح اپنے شکار کو بے بس کر دیتے ہیں۔ ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک شخص کو اپنی گاڑی میں بیٹھے ہوئے گھڑی چرائی گئی، جبکہ دوسری ویڈیو میں ایک خاتون کو اپنے چھوٹے بچے کے ساتھ گھڑی چراتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ان جرائم کی تحقیقات میں شکار افراد کی شکایات اور گھڑیوں کے سیریل نمبرز اہم کردار ادا کرتے ہیں، کیونکہ یہ معلومات چوری شدہ گھڑیوں کو دوبارہ فروخت ہونے سے روک سکتی ہیں۔
اس کارروائی کے دوران پولیس نے چوروں سے کئی قیمتی گھڑیاں، موٹر سائیکل ہیلمٹس، موبائل فونز اور دیگر اشیا بھی برآمد کی ہیں، جو ان کے جرائم میں ملوث ہونے کے ثبوت کے طور پر استعمال ہوں گی۔
یہ کارروائی نہ صرف سپین بلکہ یورپ بھر میں قیمتی گھڑیوں کی چوری کے خلاف ایک بڑا قدم ہے، جس سے ان جرائم پر قابو پانے کی امید پیدا ہوئی ہے۔
