انڈونیشیا کے وسطی جاوا کے شہر پیکالوگن میں لینڈ سلائیڈنگ کے واقعے کے نتیجے میں 16 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ مقامی حکام کے مطابق، اس سانحے میں 10 دیگر افراد زخمی بھی ہوئے ہیں، جنہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ نو افراد ابھی تک لاپتہ ہیں، اور تلاش و بچاؤ کے عمل میں تیزی سے کام جاری ہے۔
مقامی میڈیا کے مطابق، لینڈ سلائیڈنگ کی بنیادی وجہ علاقے میں جاری شدید بارش ہے۔ ہنگامی حالات سے نمٹنے والے ادارے کے سربراہ بیرگس کاتوراسی نے بتایا کہ بارش ابھی تک جاری ہے، جس کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’تلاش کا عمل جاری ہے، کیونکہ ہمارے پاس بہت زیادہ وقت نہیں ہے۔ ہمارا مقابلہ موسم سے بھی ہے۔‘‘
پیر کے روز موسلادھار بارش کے باعث علاقے کے دریاؤں میں سیلاب آیا، جس سے نو دیہات متاثر ہوئے۔ انڈونیشیا میں اکتوبر سے مارچ تک شدید بارشیں عام ہوتی ہیں، جو 17 ہزار سے زائد جزائر پر مشتمل اس ملک میں لینڈ سلائیڈنگ کا سبب بنتی ہیں۔ خاص طور پر پہاڑی ڈھلانوں والے علاقوں میں لاکھوں افراد رہائش پذیر ہیں، جو ایسے واقعات کے لیے زیادہ خطرے کا شکار ہیں۔
اس حادثے کے بعد مقامی حکام نے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں کو تیز کر دیا ہے۔ زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ لاپتہ افراد کی تلاش جاری ہے۔ انڈونیشیا میں قدرتی آفات کے باعث ہونے والے نقصانات کو کم کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے مزید اقدامات کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔
یہ واقعہ اس خطے میں قدرتی آفات کے خطرات کو ایک بار پھر اجاگر کرتا ہے، جہاں موسمی تغیرات اور انسانی آبادی کے دباؤ کے باعث ایسے حادثات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
