پیرس کے سولہویں آرونڈسمینٹ میں واقع ایونیو مارسیو کی ایک عمارت، جو انسٹی ٹیوٹ سروینٹس کی لائبریری کا گھر ہے، اس وقت تنازعے کا شکار ہے۔ اس عمارت پر اسپین کی حکومت کے مقابلے میں باسک نیشنلسٹ پارٹی نے دعویٰ کیا ہے۔ یہ تنازعہ اس وقت سامنے آیا ہے جب باسک نیشنلسٹ پارٹی نے عمارت کے مالکانہ حقوق پر زور دیا، جبکہ اسپین کی حکومت اسے اپنی ثقافتی ورثے کا حصہ قرار دیتی ہے۔
انسٹی ٹیوٹ سروینٹس، جو اسپین کی ثقافت اور زبان کو فروغ دینے کے لیے وقف ہے، اس عمارت میں کئی سالوں سے اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ لائبریری میں اسپین سے متعلق ہزاروں کتابیں اور دستاویزات موجود ہیں، جو طلباء، محققین اور عام لوگوں کے لیے ایک اہم علمی مرکز کا درجہ رکھتی ہے۔
باسک نیشنلسٹ پارٹی کا کہنا ہے کہ یہ عمارت تاریخی طور پر باسک خطے سے تعلق رکھتی ہے اور اسے اسپین کی حکومت نے غلط طریقے سے اپنے قبضے میں لے رکھا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ عمارت کو باسک ثقافتی ورثے کے طور پر تسلیم کیا جائے اور اس کا انتظام باسک حکومت کے حوالے کیا جائے۔
دوسری طرف، اسپین کی حکومت نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عمارت اسپین کی قومی ملکیت ہے اور اسے انسٹی ٹیوٹ سروینٹس کے زیر انتظام رہنا چاہیے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ عمارت اسپین کی ثقافتی شناخت کا اہم حصہ ہے اور اسے کسی بھی صورت میں منتقل نہیں کیا جا سکتا۔
تنازعے کے حل کے لیے دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات جاری ہیں، لیکن اب تک کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تنازعہ نہ صرف اسپین اور باسک خطے کے درمیان تاریخی اختلافات کو اجاگر کرتا ہے، بلکہ یہ ثقافتی ورثے کے تحفظ کے حوالے سے اہم سوالات بھی اٹھاتا ہے۔
اس تنازعے کے حل تک، انسٹی ٹیوٹ سروینٹس کی لائبریری اپنی معمول کی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے، لیکن یہ واضح ہے کہ عمارت کے مستقبل کے حوالے سے فیصلہ کرنا دونوں فریقوں کے لیے ایک چیلنج ثابت ہوگا۔
