ہسپانوی ساحلی پولیس کو ممکنہ منشیات کی اسمگلنگ کے لیے استعمال ہونے والی ایک آبدوز ملی، جو گلیشیا کے ساحل پر دو ٹکڑوں میں ٹوٹ گئی۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک ماہی گیر کشتی اسے کیماریناس بندرگاہ کی طرف کھینچ رہی تھی۔
ہسپانوی گارڈیا سول کے مطابق، ماہی گیر کشتی “ماریا کرسٹینا” نے بدھ کی صبح کیماریناس-موکسیا کے ساحل کے قریب ایک “نیم ڈوبی ہوئی” کشتی دیکھی۔ اس کے بعد ماہی گیروں نے پولیس کو مطلع کیا اور کشتی کو بندرگاہ کی طرف کھینچنا شروع کر دیا۔ تاہم، کھینچتے ہوئے یہ کشتی دو حصوں میں تقسیم ہو گئی، جس میں سے ایک حصہ ڈوب گیا۔
پولیس کے مطابق، یہ کشتی ایک “نارکو سب میرین” ہو سکتی ہے، جو منشیات کی اسمگلنگ کے لیے استعمال ہونے والی خصوصی کشتیوں میں سے ایک ہے۔ ایسی کشتیاں عام طور پر کولمبیا سے یورپ یا امریکہ تک منشیات لے جانے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ پولیس کے غوطہ خور اب ڈوبے ہوئے حصے کی تلاش میں ہیں تاکہ اس کی مزید تحقیقات کی جا سکیں۔
گلیشیا کا ساحل طویل عرصے سے منشیات کی اسمگلنگ کے لیے ایک اہم راستہ رہا ہے۔ اس کے پہاڑی اور ناہموار ساحل پر چھوٹی چھوٹی کھاڑیاں اور غاریں اسمگلروں کے لیے مثالی جگہیں ہیں۔ 2019 میں بھی ہسپانوی پولیس نے گلیشیا کے ساحل پر ایک ایسی ہی آبدوز پکڑی تھی، جس میں 3 ٹن سے زیادہ کوکین موجود تھی۔
یہ آبدوزیں عام طور پر نیم ڈوبی ہوتی ہیں، یعنی یہ مکمل طور پر پانی کے اندر نہیں جا سکتیں۔ تاہم، کچھ جدید آبدوزیں مکمل طور پر پانی کے اندر سفر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، جو انہیں پکڑے جانے سے بچاتی ہیں۔
ہسپانوی حکام کا کہنا ہے کہ منشیات کی اسمگلنگ کے لیے ایسی آبدوزوں کا استعمال بڑھ رہا ہے، کیونکہ اسمگلر نئی اور جدید تکنیکوں کے ذریعے منشیات کو محفوظ طریقے سے پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
