چین کے مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی چیٹ بوٹ ڈیپ سیک کو یورپی یونین میں ڈیٹا کے تحفظ کے معاملات پر سخت تنقید کا سامنا ہے۔ اٹلی اور آئرلینڈ کے ڈیٹا تحفظ کے اداروں نے ڈیپ سیک کے ڈیٹا جمع کرنے اور استعمال کرنے کے طریقہ کار پر تحقیقات شروع کردی ہیں۔ یہ اقدام یورپی یونین کے جنرل ڈیٹا پروٹیکشن ریگولیشن (GDPR) کے تحت اٹھایا گیا ہے، جس کا مقصد صارفین کے ڈیٹا کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔
ڈیپ سیک، جو اوپن اے آئی کے چیٹ جی پی ٹی کا مقابلہ کرنے والا ایک پلیٹ فارم ہے، حال ہی میں ایپل ایپ اسٹور اور گوگل پلے اسٹور پر سب سے زیادہ ڈاؤن لوڈ کی جانے والی ایپس میں شامل ہوا ہے۔ تاہم، اس کی تیزی سے مقبولیت کے ساتھ ہی یورپی ممالک میں اس کے ڈیٹا کے استعمال کے طریقہ کار پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ خاص طور پر، چین کے قومی انٹیلی جنس قوانین کے تحت کمپنیوں کو ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون کرنے کی پابندی ہے، جس نے یورپی حکام کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔
اٹلی کے ڈیٹا تحفظ کے ادارے گارانٹے نے ڈیپ سیک کو ایپ اسٹورز سے ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اٹلی کے صارفین کو ایپ ڈاؤن لوڈ کرتے وقت “فی الحال آپ کے ملک یا علاقے میں دستیاب نہیں” کا پیغام موصول ہوا ہے۔ گارانٹے نے ڈیپ سیک کو 20 دن کے اندر یہ وضاحت کرنے کا حکم دیا ہے کہ وہ کس قسم کا ڈیٹا جمع کرتا ہے، اس کا مقصد کیا ہے، اور کیا یہ ڈیٹا چین میں محفوظ کیا جاتا ہے۔
اسی دوران، آئرلینڈ کے ڈیٹا پروٹیکشن کمیشن نے بھی ڈیپ سیک کے ڈیٹا کے استعمال کے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے ہیں۔ کمیشن نے کمپنی سے آئرش شہریوں کے ڈیٹا کے بارے میں معلومات طلب کی ہیں۔ آئرلینڈ کا یہ اقدام خاص طور پر اہم ہے کیونکہ یہ ملک بہت سی ٹیک کمپنیوں کا مرکز ہے، جن میں مصنوعی ذہانت کے شعبے کی بڑی کمپنیاں بھی شامل ہیں۔
سیکیورٹی ماہر چیسٹر وِسنِوسکی کا کہنا ہے کہ ڈیپ سیک کا “اوپن سورس” ہونا اسے خطرات سے دوچار کرتا ہے۔ ان کے مطابق، اس پلیٹ فارم کو سائبر مجرموں کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے، حالانکہ اسے چلانے کے لیے زیادہ وسائل درکار ہوتے ہیں۔ وِسنِوسکی نے مزید کہا کہ کمپنیوں کو ڈیپ سیک یا کسی بھی AI ماڈل کو استعمال کرنے سے پہلے اس کے خطرات کا مکمل جائزہ لینا چاہیے۔
سینس انسٹی ٹیوٹ کے چیف آف ریسرچ روب ٹی لی نے کہا کہ ڈیپ سیک کا ڈیٹا پرائیویسی کا طریقہ کار تشویشناک ہے۔ ان کے مطابق، اوپن اے آئی کے برعکس، جو صارفین کے ڈیٹا کو محفوظ رکھنے کی کوشش کرتا ہے، ڈیپ سیک بڑی مقدار میں ڈیٹا چین میں جمع کرتا ہے اور اسے غیر نامیاتی شکل میں محفوظ کرتا ہے، جو ایک بڑا خطرہ ہے۔
یورپی حکام کی یہ کارروائی اس بات کی عکاس ہے کہ وہ صارفین کے ڈیٹا کی حفاظت کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ ڈیپ سیک کے مستقبل پر اس تحقیقات کے کیا اثرات مرتب ہوں گے، یہ ابھی واضح نہیں ہے۔ تاہم، یہ معاملہ ٹیک کمپنیوں کی ذمہ داریوں اور مصنوعی ذہانت کے ممکنہ خطرات پر ایک اہم بحث کو جنم دے رہا ہے۔
یورپی یونین کے سخت ڈیٹا تحفظ کے قوانین کے تحت، ڈیپ سیک کو اپنے طریقہ کار میں تبدیلیاں لانا پڑ سکتی ہیں، ورنہ اسے یورپ میں اپنی خدمات بند کرنی پڑ سکتی ہیں۔ اس صورتحال میں صارفین کو بھی احتیاط برتنی چاہیے اور ایسی ایپس استعمال کرتے وقت ڈیٹا کی حفاظت کو یقینی بنانا چاہیے۔
