راولپنڈی: ایک کمسن گھریلو ملازمہ کو اس کے مالک اور مالکن کی جانب سے مبینہ طور پر تشدد اور بدسلوکی کا نشانہ بنانے کے بعد ہسپتال منتقل کیا گیا ہے، جہاں اس کی حالت نازک بیان کی گئی ہے۔
پولیس نے اس جوڑے اور اس خاتون کو حراست میں لے لیا ہے، جس نے لڑکی کو ہسپتال پہنچایا۔ بچوں کے تحفظ کے ادارے کا ایک ٹیم بھی ہسپتال پہنچ گئی ہے۔ یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب متاثرہ لڑکی کو راولپنڈی کے بانی تھانے کے اسغر مال اسکیم کے علاقے سے ہسپتال لے جایا گیا، جہاں اس کی حالت بگڑ گئی تھی۔
متاثرہ لڑکی کی عمر 12 سال ہے اور اس کا نام اقرا ہے۔ اسے بے ہوشی کی حالت میں ہسپتال پہنچایا گیا۔ ڈاکٹروں نے اس کے جسم پر تشدد کے نشانات کی تصدیق کی، جس کے بعد راولپنڈی کے سی پی او خالد حمدانی نے پولیس کو تحقیقات کے احکامات دیے۔
جب اس خاتون سے پوچھ گچھ کی گئی، جس نے لڑکی کو ہسپتال پہنچایا، تو اس نے بتایا کہ وہ گھر میں بچوں کو قرآن پڑھاتی ہے اور لڑکی میاں رشید کے گھر کام کر رہی تھی۔ اس نے انسانی بنیادوں پر لڑکی کو ہسپتال لانے کا فیصلہ کیا کیونکہ اس کی حالت دیکھ کر وہ برداشت نہیں کر سکی۔
پولیس نے بتایا کہ جب یہ واقعہ سامنے آیا تو تشدد کرنے والے شوہر اور بیوی کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور ان سے پوچھ گچھ جاری ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق، یہ واقعہ چند روز قبل پیش آیا تھا اور لڑکی کی حالت اب بھی نازک ہے۔
سی پی او خالد حمدانی نے کہا کہ بچوں کے ساتھ تشدد کسی بھی صورت میں ناقابل برداشت ہے۔ جب میڈیکل رپورٹ موصول ہوگی تو ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی اور اس معصوم لڑکی کے خلاف تشدد کے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔
دوسری جانب، بچوں کے تحفظ کی چیئرپرسن سارہ احمد نے بھی اس واقعہ کا نوٹس لیا ہے اور بچوں کے تحفظ کے ادارے کی ایک ٹیم ہسپتال پہنچی ہے۔ سارہ احمد نے کہا کہ یہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے اور متاثرہ لڑکی کو ہولی فیملی ہسپتال میں علاج کے لیے داخل کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ لڑکی کو تقریباً 12 دن تک تشدد کا نشانہ بنایا گیا، اور اس کے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔
سارہ احمد نے یہ بھی کہا کہ بچوں کے تحفظ کے ادارے کی جانب سے متاثرہ گھریلو ملازمہ کو حفاظتی تحویل میں لیا جائے گا اور اسے تمام ممکنہ مدد فراہم کی جائے گی۔
