پیرس: فرانس میں خواتین کے لیے اینڈومیٹریوسیس کی تشخیص کے لیے جدید تھوک ٹیسٹ کی آزمائش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ یہ ٹیسٹ 80 ہسپتالوں میں دستیاب ہوگا اور اس سے لاکھوں خواتین کی زندگی میں بہتری کی امید ہے، جنہیں اس بیماری کی تشخیص میں کئی سال لگ جاتے ہیں۔
اینڈومیٹریوسیس ایک دائمی گائناکولوجیکل بیماری ہے جو خواتین میں بچہ دانی کے اندرونی پرت کو متاثر کرتی ہے۔ اس بیماری میں بعض اوقات بچہ دانی کی اندرونی پرت کی کچھ خلیات بچہ دانی کے باہر منتقل ہو جاتے ہیں، جس سے پیڑو کے علاقے کے مختلف اعضاء جیسے ریکٹم، مثانے یا بیضہ دانی پر زخم ہو سکتے ہیں۔ یہ بیماری درد اور بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت کو متاثر کر سکتی ہے۔ فرانس میں یہ بیماری ہر دس میں سے ایک خاتون کو متاثر کرتی ہے۔
تھوک ٹیسٹ کی اہمیت اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب اینڈومیٹریوسیس کی تشخیص میں سات سال کا وقت لگتا ہے۔ یہ ٹیسٹ ایک سادہ تھوک کے نمونے پر مبنی ہے جو خواتین گھر پر خود ہی لے سکتی ہیں اور پھر اسے لیبارٹری کو بھیج دیتی ہیں۔ اس ٹیسٹ کے ذریعے طبی معائنہ کیے بغیر ہی بیماری کی تشخیص ممکن ہو جاتی ہے، جس سے کویلوسکوپی جیسی سرجری کی ضرورت نہیں رہتی۔
یہ ٹیسٹ 97.4 فیصد مؤثر ہے، تاہم فی الحال اس کے مکمل طور پر قابل اعتماد ہونے پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ اس ٹیسٹ کی قیمت 839 یورو ہے جسے سوشل سیکیورٹی کے ذریعے واپس کیا جائے گا۔
ان ٹیسٹوں کی آزمائش کے لیے 2500 خواتین کو منتخب کیا جائے گا اور ان کے نتائج کی بنیاد پر اس ٹیسٹ کے عمومی استعمال کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اس کے بعد مزید 22,500 خواتین کو بھی یہ سہولت فراہم کی جائے گی۔ مستقبل میں یہ امید کی جا رہی ہے کہ یہ ٹیسٹ پہلے مرحلے میں دستیاب ہو جائے گا تاکہ خواتین کو جلد از جلد تشخیص کا موقع مل سکے۔
یہ جدید ٹیسٹ اینڈومیٹریوسیس کی شناخت میں ایک انقلابی قدم ثابت ہو سکتا ہے اور اس سے خواتین کی صحت میں نمایاں بہتری کی امید کی جا رہی ہے۔
