اسلام آباد: ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کو جمعرات کی صبح وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں ان کے شاندار استقبال کے موقع پر گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ ترک صدر کا یہ دورہ پاکستان میں ان کے دو روزہ سرکاری دورے کا حصہ ہے۔
ترک صدر رات گئے اسلام آباد پہنچے جہاں راولپنڈی میں وزیراعظم شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری نے ان کا استقبال کیا۔ ملاقاتیں اور سرکاری مصروفیات ان کے دورے کا حصہ ہیں۔
وزیراعظم ہاؤس میں منعقدہ تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی وزراء نے ترک صدر کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس دوران مسلح افواج کے دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا جبکہ دونوں ممالک کے قومی ترانے بجائے گئے۔
آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے بھی وزیراعظم ہاؤس میں ترک صدر کا استقبال کیا اور دونوں ایک دوسرے سے مصافحہ کیا۔ ترک صدر کو لڑاکا طیاروں کے مختلف فارمیشنز کے ذریعے سلامی بھی دی گئی۔
وزیراعظم نے اپنی کابینہ کے ارکان کا تعارف ترک صدر سے کروایا جن میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر تعلیم خالد مقبول صدیقی، وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور وزیر مملکت برائے آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ شامل ہیں۔
دونوں رہنماؤں نے وزیراعظم ہاؤس میں ایک یادگاری پودا بھی لگایا۔
دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے مختلف معاہدوں پر دستخط متوقع ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم کو بڑھا کر ایک ارب ڈالر سے پانچ ارب ڈالر تک لے جانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
دفاعی تعاون بھی پاکستان اور ترکی کے تعلقات کا اہم ستون ہے اور اس حوالے سے مزید تعاون کے امکانات پر بھی بات چیت ہوگی۔
ترک صدر کا یہ دورہ ایسے موقع پر ہو رہا ہے جب ترکی کی علاقائی اثر و رسوخ میں اضافہ ہو رہا ہے اور دونوں ممالک شام کی بعد از جنگ تعمیر نو اور انسداد دہشت گردی کے اقدامات میں تعاون کے امکانات پر بات چیت کریں گے۔
ترکی کی مسلم امور کی مضبوط حمایت، خاص طور پر فلسطین اور کشمیر کے مسائل پر، پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات سے ہم آہنگ ہے۔ دونوں رہنما علاقائی سلامتی کے خدشات اور انسانی بحرانوں پر تبادلہ خیال کریں گے۔
دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک اقتصادی فریم ورک کو وسعت دینے کی کوششیں بھی جاری ہیں اور توقع کی جا رہی ہے کہ اس دورے کے دوران اس پر مزید مذاکرات ہوں گے۔
