دبئی: ایران نے پیر کے روز کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے اس کے خلاف دھمکیاں عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور وہ تہران کو نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ یہ بیان اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے یروشلم میں ملاقات کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے کہا کہ ان کے ممالک ایران کی جوہری خواہشات اور مشرق وسطیٰ میں اس کے اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے پرعزم ہیں۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل نے غزہ کے تنازعے کے آغاز سے ایران کو “زبردست دھچکا” پہنچایا ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت سے انہیں یقین ہے کہ وہ اپنے مقاصد حاصل کر لیں گے۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتہ وار پریس کانفرنس میں جواب دیتے ہوئے کہا، “جب بات ایران جیسی ریاست کی ہو، تو وہ کچھ نہیں کر سکتے۔” انہوں نے کہا کہ ایران کو ایک طرف دھمکیاں دینا اور دوسری طرف مذاکرات کا دعویٰ کرنا غیر حقیقت پسندانہ ہے۔
ٹرمپ نے تہران کے ساتھ معاہدے کے لئے دلچسپی ظاہر کی ہے جبکہ انہوں نے ایران کے خلاف “زیادہ سے زیادہ دباؤ” مہم دوبارہ شروع کی ہے جو ان کے پہلے دور حکومت میں ایرانی جوہری ہتھیاروں کے حصول کو روکنے کے لیے چلائی گئی تھی۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ٹرمپ کی سابقہ انتظامیہ پر اپنے وعدوں کی پاسداری نہ کرنے پر تنقید کی ہے۔ 2018 میں، ٹرمپ نے امریکہ کو تہران کے 2015 کے جوہری معاہدے سے نکال لیا اور ایسی پابندیاں دوبارہ عائد کیں جن سے ایران کی معیشت کو نقصان پہنچا۔
ایک سال بعد، ایران نے جوہری معاہدے کی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یورینیم کی افزودگی کو 60 فیصد تک بڑھا دیا، جو ہتھیاروں کی سطح کے قریب ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پرامن مقاصد کے لیے ہے۔
ترجمان بقائی کے بیان کے باوجود، خطے میں تہران کا اثر و رسوخ کمزور ہو چکا ہے اور اس کے علاقائی اتحادی، جنہیں “مزاحمتی محور” کہا جاتا ہے، غزہ میں حماس-اسرائیل تنازعے کے آغاز سے یا شامی صدر بشار الاسد کے زوال کے بعد سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔ اس محور میں نہ صرف حماس بلکہ لبنان کی حزب اللہ، یمن کے حوثی اور عراق و شام میں مختلف شیعہ مسلح گروہ بھی شامل ہیں۔
