فیزین، لیون کے نزدیک واقع مضافاتی علاقے میں منگل کی شام ایک افسوسناک حادثہ پیش آیا جہاں ایک مکان میں آگ لگنے کے نتیجے میں تین خواتین اپنی زندگی کی بازی ہار گئیں۔ یہ آگ شام 7:30 بجے کے قریب لگی، جس کے بعد تقریباً 50 فائر فائٹرز کو فوری طور پر موقع پر طلب کیا گیا تاکہ آگ پر قابو پایا جا سکے۔ اطلاعات کے مطابق یہ آگ مکان کی نچلی منزل سے شروع ہوئی تھی۔
یہ افسوسناک حادثہ ایک رہائشی علاقے میں پیش آیا جہاں پانچ افراد اس مکان میں مقیم تھے۔ ایمرجنسی سروسز کی بھرپور کوششوں کے باوجود، تین خواتین کی لاشیں آگ بجھانے کے عمل کے دوران برآمد ہوئیں۔ مکان کے دو دیگر مکین، ایک 65 سالہ مرد اور ایک 69 سالہ خاتون، بغیر کسی زخم کے بچ نکلے لیکن احتیاطی طبی معائنے کے لیے انہیں اسپتال منتقل کیا گیا۔
فائر فائٹرز کو آگ بجھانے کے دوران شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ مکان کے اندر سامان بھرا ہوا تھا جو کہ بعض مقامات پر تقریباً 1.5 میٹر تک ڈھیر تھا۔ اس بات کا شبہ ہے کہ مکان کے کسی رہائشی کو دیوجینس سنڈروم ہو سکتا ہے، جس کی وجہ سے مکان میں سامان کا اس قدر انبار لگ گیا تھا اور یہی چیز ایمرجنسی سروسز کی رسائی میں رکاوٹ بنی۔
آپریشن کے دوران ایک فائر فائٹر کو معمولی زخم آئے، تاہم انہیں اسپتال میں داخل ہونے کی ضرورت نہیں پڑی۔ واقعے کی سنجیدگی کے پیش نظر، متعلقہ فائر فائٹرز کو نفسیاتی مدد کی فراہمی بھی کی گئی ہے۔
فیزین کے میئر مارک مامے نے بیان دیا کہ آگ ممکنہ طور پر سرکٹ بریکر سے شروع ہوئی۔ انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ بچنے والے دونوں افراد، جو بھائی بہن ہیں، کی حالت مستحکم ہے۔ اس سانحے کے بعد ان کے لیے نئی رہائش کا انتظام کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
یہ واقعہ رہائشی علاقوں میں حفاظت اور تیاری کی اہمیت کو اُجاگر کرتا ہے۔ حکام آگ لگنے کی اصل وجوہات اور حالات کی مزید تفتیش کر رہے ہیں۔
