دبئی: پاکستان نے دبئی انٹرنیشنل اسٹیڈیم میں اتوار کو ہونے والے چیمپیئنز ٹرافی کے اہم میچ میں بھارت کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا انتخاب کیا ہے۔ یہ فیصلہ ٹیم کے لئے نہایت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ انہیں نیوزی لینڈ کے خلاف شکست کے بعد ٹورنامنٹ میں اپنی موجودگی کو برقرار رکھنے کی اشد ضرورت ہے۔
میچ کی پچ جو پہلے ہی ٹورنامنٹ میں استعمال ہو چکی ہے، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سست ہونے کی توقع ہے۔ یہ عنصر دونوں ٹیموں کے لئے فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ پاور پلے اوورز میں رنز بنانے کا موقع ہے، جس کے بعد بیٹنگ کے لئے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ کرکٹ لیجنڈ سنیل گواسکر نے کہا ہے کہ طوالت کی وجہ سے 270 رنز کا دفاعی سکور حاصل کرنا ایک مشکل لیکن اہم ہدف ہو سکتا ہے۔
پاکستان نے اپنی ٹیم میں ایک حکمت عملی تبدیلی کرتے ہوئے امام الحق کو فخر زمان کی جگہ شامل کیا ہے، جو ٹورنامنٹ کے دوران چوٹ کا شکار ہو گئے تھے۔ دوسری جانب بھارت نے اپنی ٹیم میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی اور وہی ٹیم برقرار رکھی جو بنگلہ دیش کے خلاف افتتاحی میچ میں چھ وکٹوں سے کامیاب ہوئی تھی۔ کپتان روہت شرما کی قیادت میں بھارتی ٹیم دبئی میں مقیم ہے کیونکہ سفری ہدایات کے باعث انہیں پاکستان میں کھیلنے کی اجازت نہیں ہے۔
بھارت اس میچ میں پچھلے مقابلوں کی برتری کے ساتھ اتر رہا ہے، خاص طور پر احمد آباد میں 2023 کے ورلڈ کپ میں پاکستان کے خلاف جیت کے بعد۔ آج کی فتح بھارت کو سیمی فائنل کے قریب لے جائے گی، جبکہ پاکستان کے لئے یہ میچ ٹورنامنٹ میں اپنی امیدوں کو زندہ رکھنے کا ایک اہم موقع ہے۔
اسٹیڈیم کے باہر شائقین کا جوش و خروش عروج پر ہے، دونوں ٹیموں کے درمیان تاریخی حریفانہ تعلقات کے باعث ماحول پرجوش ہے۔ پاکستان کے لئے یہ میچ محض ٹورنامنٹ میں رہنے کی کوشش نہیں بلکہ ایک طاقتور حریف کے خلاف اپنی برتری ثابت کرنے اور عالمی سطح پر اپنی مہم کو دوبارہ زندہ کرنے کا موقع ہے۔
