پاکستان میں رواں سال تیسرا جنگلی پولیو وائرس ٹائپ 1 (WPV1) کا کیس رپورٹ ہوا ہے۔ یہ نیا کیس سندھ کے شہر لاڑکانہ میں سامنے آیا ہے جہاں 54 ماہ کی ایک بچی اس وائرس سے متاثر ہوئی ہے۔ یہ معلومات پولیو کے خاتمے کے لیے علاقائی ریفرنس لیبارٹری کے ایک اہلکار نے دی ہیں۔ سندھ میں یہ دوسرا پولیو کیس ہے جبکہ پہلا کیس خیبر پختونخوا میں رپورٹ ہوا تھا۔
پاکستان اس وقت پولیو وائرس کی دوبارہ ابھرنے والی صورتحال سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔ گزشتہ سال ملک میں 74 کیسز رپورٹ ہوئے تھے جن میں بلوچستان سے 27، خیبر پختونخوا سے 22، سندھ سے 23 اور پنجاب و اسلام آباد سے ایک ایک کیس شامل تھا۔
پولیو کے خطرے کے پیش نظر پاکستان نے سال کی پہلی قومی پولیو ویکسینیشن مہم کا آغاز کیا۔ اس کے فوراً بعد کوئٹہ اور کراچی میں 20 اور 22 فروری کو فریکشنل انجیکٹیبل پولیو ویکسین (IPV) اور زبانی پولیو ویکسین (OPV) مہم کا انعقاد کیا گیا۔ حکام کے مطابق اس مہم کے دوران تقریباً دس لاکھ بچوں کو ویکسین دی گئی۔
مزید کوششوں کے تحت 24 سے 28 فروری تک ایک اور ویکسینیشن مہم کا انعقاد کیا جائے گا جس میں 104 یونین کونسلز کو ہدف بنایا جائے گا جو افغانستان کی سرحد کے قریب واقع ہیں یا جہاں افغان پناہ گزین کیمپ موجود ہیں۔ اس مہم میں تقریباً 6 لاکھ 60 ہزار بچوں کو ویکسین دینے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
پاکستان میں پولیو کے دوبارہ ابھرنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ وائرس کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مسلسل چوکسی اور جامع ویکسینیشن کی کوششیں کتنی ضروری ہیں۔
