لندن میں اتوار کو یوکرین تنازعے پر ایک اعلیٰ سطحی سمٹ کا انعقاد ہوا، جب کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کے درمیان شدید تبادلہ خیالات کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ اس اجلاس میں یورپ کے اہم اتحادیوں نے شرکت کی، جس نے یورپ کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کی فوری ضرورت کو اجاگر کیا۔
برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے اس موقع کو یورپی سلامتی کے لیے ایک “منفرد لمحہ” قرار دیا اور یوکرین کے لئے متحدہ حمایت کی اہمیت پر زور دیا۔ یہ سمٹ ایک متنازعہ ٹرمپ-زیلنسکی محاذ آرائی کے چند دن بعد منعقد ہوئی، جس نے امریکی حمایت کی اعتباریت پر سوال اٹھائے۔
یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وون ڈر لیین نے یورپ کی دفاعی صلاحیتوں کو فوری طور پر مضبوط کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ایک جامع دوبارہ اسلحہ بندی کی حکمت عملی آئندہ یورپی یونین کے دفاعی سمٹ میں پیش کی جائے گی، جس میں دفاع میں مستقل سرمایہ کاری کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
سمٹ کا مرکز یورپ کے لیے نئی سکیورٹی ضمانتوں کا قیام تھا، خاص طور پر اس خدشہ کے پیش نظر کہ واشنگٹن اپنی حمایت میں کمی کر سکتا ہے۔ فرانس، جرمنی، اٹلی اور دیگر یورپی ممالک کے رہنماؤں نے یوکرین کے لیے جاری فوجی حمایت اور روس پر اقتصادی دباؤ بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا۔
ایک متعلقہ پیشرفت میں، برطانوی اور فرانسیسی حکام نے یوکرین اور روس کے درمیان دشمنی کے خاتمے کے لئے ایک منصوبہ تیار کرنے کی کوششوں کا انکشاف کیا۔ اسٹارمر نے عندیہ دیا کہ ان مذاکرات میں جلد ہی امریکہ بھی شامل ہوگا، امید ہے کہ امن معاہدے کے لئے رضا کار قوموں کا اتحاد تشکیل دیا جائے گا۔
اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے زیلنسکی سے ملاقات کی تاکہ یوکرین کے لئے اٹلی کی حمایت کی توثیق کی جا سکے۔ انہوں نے مغربی اتحاد کی اہمیت پر زور دیا اور واشنگٹن کے ساتھ سفارتی پل بنانے کی کوششوں کو اجاگر کیا۔
ٹرمپ کی روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے ساتھ حالیہ بات چیت کے بعد امریکی پالیسی میں تبدیلیوں کے خدشات میں شدت آ گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ماسکو اور واشنگٹن نے یوکرین یا یورپی اتحادیوں کو شامل کیے بغیر امن مذاکرات کا آغاز کیا ہے، جس نے پورے یورپ میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
یورپی ردعمل ٹرمپ کے رویے پر تشویش کا باعث رہا، جرمن وزیر خارجہ اینالینا بیئربوک نے بین الاقوامی قوانین پر مبنی نظام کی خطرات کے حوالے سے ایک “نئی دور کی رسوائی” کی وارننگ دی۔ دریں اثنا، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے ممکنہ یورپی جوہری دفاعی نظام پر بات چیت کی تجویز پیش کی، جو وسیع تر حکمت عملی کی غیر یقینی صورتحال کی عکاسی کرتی ہے۔
سمٹ کے اختتام پر، زیلنسکی کی کنگ چارلس کے ساتھ مذاکرات متوقع تھے، جس سے جاری سفارتی کوششوں کو تقویت ملتی ہے تاکہ جاری بحران کے دوران یورپی حمایت کو یقینی بنایا جا سکے۔
