ایران کے جنوبی شہر بندر عباس کے قریب شاہد رجائی بندرگاہ پر ہفتے کے روز ہونے والے بڑے دھماکے کے بعد آگ بھڑک اٹھی جس میں کم از کم 46 افراد ہلاک ہو گئے۔ سرکاری ٹی وی کے مطابق، ایرانی حکام نے اس حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے اس واقعے کی مکمل تحقیقات کا حکم دیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا کسی قسم کی غفلت یا ارادے کا عنصر اس حادثے میں شامل ہے یا نہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ دھماکہ ممکنہ طور پر کیمیائی مواد کے ذخیرہ گاہ میں آگ لگنے کی وجہ سے ہوا۔
ہرمزگان صوبے کے بحران انتظامیہ کے ڈائریکٹر مہرداد حسن زادہ کے مطابق، اس حادثے میں ایک ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے زیادہ تر کو ابتدائی علاج کے بعد اسپتال سے فارغ کر دیا گیا ہے، جبکہ 138 زخمی اب بھی زیر علاج ہیں۔
ایرانی ہلال احمر کی جانب سے فراہم کردہ ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ ایک فائر فائٹنگ ہیلی کاپٹر آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ متاثرہ علاقے میں سیاہ دھواں اٹھ رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی فوٹیجز میں دکھایا گیا کہ دھماکہ آہستہ آہستہ شروع ہوا اور پھر ایک آگ کا گولہ پھٹ پڑا۔
واقعے کے بعد صدر مسعود پزشکیان نے قریبی شہر بندر عباس میں زخمیوں کی حالت معلوم کرنے کے لیے اسپتالوں کا دورہ کیا۔ حکام نے احتیاطی تدابیر کے طور پر علاقے میں تمام اسکولوں اور دفاتر کو بند کرنے کا حکم دیا اور رہائشیوں کو حفاظتی ماسک استعمال کرنے کی ہدایت کی۔
وزارت دفاع کے ترجمان رضا طلائی نیک نے بتایا کہ متاثرہ علاقے میں کوئی فوجی ایندھن یا فوجی استعمال کے لیے سامان موجود نہیں تھا۔ روس نے بھی آگ بجھانے میں مدد کے لیے ماہرین فراہم کیے ہیں۔
ایران میں پیر کو قومی یوم سوگ قرار دیا گیا جبکہ ہرمزگان صوبے میں اتوار سے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس واقعے کے دوران ایرانی اور امریکی وفود عمان میں تہران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کر رہے تھے۔
