بیجنگ: نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار پیر کے روز چین کے دارالحکومت بیجنگ پہنچے جہاں وہ تین روزہ سرکاری دورے پر ہیں۔ یہ دورہ چینی وزیر خارجہ وانگ ای کے دعوت پر ہورہا ہے، جو خطے میں جاری تناؤ کے پیش نظر اہمیت کا حامل ہے۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہورہا ہے جب پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ جنگ بندی کے بعد خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔ یہ جنگ بندی مقبوضہ کشمیر میں پہلگام حملے کے بعد پیدا ہونے والی فوجی کشیدگی کے بعد ہوئی تھی، جس کا الزام بھارت نے بغیر شواہد کے پاکستان پر عائد کیا تھا۔
چھ مئی کو بھارتی فضائی حملوں میں پنجاب اور آزاد کشمیر میں شہریوں کی ہلاکت کے بعد، اسلام آباد نے پانچ بھارتی طیارے مارگرائے۔ ڈرون کے روک تھام اور فضائی اڈوں پر حملوں کے بعد، 10 مئی کو امریکی مداخلت کی وجہ سے جنگ بندی ممکن ہوئی۔ بھارت نے اپنی جارحیت برقرار رکھی ہوئی ہے جبکہ پاکستان نے مزید کشیدگی سے باز رہنے کی تنبیہ کی اور مذاکرات کی پیشکش کی۔
دفتر خارجہ کے مطابق، نائب وزیر اعظم/وزیر خارجہ اسحاق ڈار 19 سے 21 مئی تک بیجنگ کے دورے پر ہیں جہاں ان کا استقبال سینئر چینی حکام اور چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی نے کیا۔
دورے کے دوران، ڈار جنوبی ایشیا کی صورتحال اور اس کے امن و استحکام پر اثرات کے حوالے سے چینی ہم منصب کے ساتھ تفصیلی بات چیت کریں گے۔ دونوں ممالک کے تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا اور باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
یہ دورہ پاکستان اور چین کے درمیان جاری اعلیٰ سطحی تبادلوں کا حصہ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان آل ویدر اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کی توثیق کرتا ہے۔
افغانستان کے عبوری وزیر خارجہ امیر خان متقی بھی بیجنگ میں موجود ہوں گے اور علاقائی امن و سلامتی کے مباحثوں میں حصہ لیں گے۔
روانگی سے قبل، ڈار نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ چین پاکستان کا بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعلقات ہیں۔ وزیر خارجہ نے بتایا کہ گزشتہ تین ہفتوں میں ان کی چینی ہم منصب کے ساتھ دو ٹیلیفونک بات چیت ہوئی تھی، جنہوں نے انہیں چین کے دورے کی دعوت دی۔
ڈار نے کہا کہ چینی قیادت کے ساتھ ان کی ملاقاتوں میں سیاسی، مقامی، علاقائی اور عالمی مسائل کے ساتھ ساتھ پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی پر بھی گفتگو ہوگی۔
دفتر خارجہ نے پہلے کہا تھا کہ ڈار بیجنگ کے دورے پر روانہ ہوں گے تاکہ چینی وزیر خارجہ وانگ ای کے ساتھ جنوبی ایشیا کی صورتحال اور اس کے امن و استحکام پر اثرات کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی جاسکے۔
اس سے قبل، چین نے 5 مئی کو صدر آصف علی زرداری کے ساتھ ایک ملاقات میں بھارت کے ساتھ کشیدگی کے دوران پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا تھا۔
چین کے ساتھ پاکستان کے مضبوط دوطرفہ تعلقات ہیں جنہوں نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) جیسے منصوبوں کے ذریعے ملک کی معیشت کے لیے “لائف لائن” کی حیثیت سے تعاون فراہم کیا ہے۔
