فرانس کے باغات میں تتلیوں کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے، جس کی وجوہات پر تجزیہ کیا جا رہا ہے۔
فرانس میں پائے جانے والے دن کے تقریباً 70 فیصد تتلیوں کی نسلیں کم از کم ایک صوبے سے غائب ہو چکی ہیں۔ اس صورتحال نے ماہرین کو فکر مند کر دیا ہے اور اس کی وجوہات پر غور کرنے کی ضرورت کو بڑھا دیا ہے۔
تاریخی طور پر، 1970 اور 1980 کی دہائیوں میں زراعت کے طریقوں کی شدت اور شہری ترقی کے بڑھتے ہوئے رجحان سے یہ مسئلہ شروع ہوا۔ تتلیوں کے قدرتی مسکن کو زراعت کے لیے تباہ کر دیا گیا، جس کی وجہ سے ان کے کھانے اور افزائش کے مقامات ختم ہو گئے۔
خاص طور پر، ایک مخصوص قسم کی تتلی ‘ہرمیٹ’ اس صورتحال سے بہت متاثر ہوئی ہے۔ چرائی کے علاقوں کی کمی کے باعث یہ تتلی اب زیادہ تر اونچائی والے علاقوں میں نظر آتی ہے۔
تتلیوں کی مخصوص حیاتیات کی وجہ سے بعض اوقات وہ ایک ہی پودے پر انحصار کرتی ہیں۔ مثلاً، ‘آزوری دی سانگویسورب’ نامی تتلی اپنے انڈوں کو صرف مخصوص پودے پر دیتی ہے، جبکہ ان پودوں کی جگہ اب مکئی کی کاشت نے لے لی ہے، جس کی وجہ سے تتلیوں کی بقا خطرے میں ہے۔
زراعت کی شدت کے ساتھ کیڑے مار ادویات کا بڑھتا ہوا استعمال بھی تتلیوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہورہا ہے۔ یہ کیمیکلز ان کے اعصابی نظام کو متاثر کر کے ان کی موت کا سبب بن رہے ہیں۔
تتلیوں کی کمی نہ صرف ان کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ یہ ماحولیاتی نظام پر بھی منفی اثر ڈال رہی ہے۔ تتلیاں نہ رہنے کی صورت میں ان کی لاروہ کی تعداد بھی کم ہو جاتی ہے، جو کہ چھوٹے پرندوں کی خوراک کا حصہ ہیں۔
فرانس میں تقریباً چالیس اقسام کی تتلیوں کی نسلیں خطرے میں ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔ اس سلسلے میں نئی تحقیق آئندہ سال متوقع ہے۔
تتلیوں کی بقا کے لیے عوام بھی اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اپنے باغات کو کم کاٹ کر اور مقامی پودوں کو پنپنے کا موقع دے کر ہم ان کے مسکن کو محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، یہ اقدامات نہ صرف تتلیوں بلکہ دیگر چھوٹے جانوروں کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔
