اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے جمعے کو تصدیق کی ہے کہ افغانستان نے کابل میں پاکستانی سفیر کو نوٹس جاری کیا ہے جس میں الزام لگایا گیا کہ پاکستان نے سرحد پار ڈرون حملے کیے ہیں۔
افغان حکام کے مطابق ننگرہار اور خوست صوبوں میں دو مختلف واقعات میں کم از کم تین افراد ہلاک اور سات زخمی ہوئے ہیں، جنہیں وہ پاکستانی حملے قرار دے رہے ہیں۔ تاہم اسلام آباد کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے جبکہ افغان حکام نے بھی پاکستان کے شمولیت کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا ہے۔
اسلام آباد میں ایک پریس بریفنگ کے دوران اسحاق ڈار نے اس بارے میں سوالات کے جوابات دیے۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں ابھی تک واقعے کی پوری تفصیلات فراہم نہیں کی گئی تھیں، مگر انہوں نے تصدیق کی کہ انہیں پاکستان کے سفیر کے لیے موصولہ نوٹس کی ایک کاپی ملی ہے۔
انہوں نے کہا، “ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اصل میں کیا ہوا تھا، ہمیں صورت حال کی مزید تحقیق کرنی ہوگی۔”
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کی افغانستان سے صرف ایک درخواست ہے، کہ وہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو روکیں اور اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔
انہوں نے کہا، “ہم نے ان سے کہا کہ ‘یا تو ان لوگوں کو ہمارے بارڈر سے ہٹا دیں یا ہمیں ان کے حوالے کر دیں، جیسے آپ چاہیں’۔”
وزیر خارجہ نے یقین ظاہر کیا کہ کابل کے ساتھ پاکستان کی نیت کے اعتبار سے کوئی دو رائے نہیں ہے اور اس نے پاکستان کے ساتھ تعاون کی کوشش کی نشاندہی کی ہے۔
قبل ازیں، پاکستان، چین اور افغانستان نے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں کو مضبوط کرنے اور مختلف کلیدی شعبوں میں تعاون بڑھانے کا عزم کیا۔
انہوں نے بتایا کہ “تینوں ممالک دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں کو مستحکم کرنے پر راضی ہوگئے ہیں۔” انہوں نے تیز تر ترقی کے لیے سی پیک (چین پاکستان اقتصادی راہداری) کی افغانستان تک توسیع کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
اسلام آباد نے بارہا کابل کو تنبیہ کی ہے کہ اس کی سرزمین کو پاکستان پر حملے کرنے کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔ پاکستان واضح طور پر کہہ چکا ہے کہ وہ ان دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
