تیانجن: چینی صدر شی جن پنگ اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے درمیان چین کے شمالی بندرگاہی شہر تیانجن میں دو طرفہ ملاقات کا آغاز ہوگیا۔ سرکاری خبر رساں ادارے سنہوا کے مطابق، یہ ملاقات اتوار کو شروع ہوئی۔
نریندر مودی سات سال بعد چین پہنچے ہیں تاکہ شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے دو روزہ اجلاس میں شرکت کرسکیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم کی یہ کانفرنس آج اور کل تیانجن میں متوقع ہے، جس میں روسی صدر ولادی میر پیوٹن سمیت بیس سے زائد عالمی رہنما شرکت کریں گے۔
چین نے اس ماہ کے آغاز میں مودی کے دورہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ دونوں ممالک عالمی آبادی کا ایک تہائی حصہ رکھتے ہیں، اور ان کے درمیان معاشی اور سیاسی تعلقات کو مزید فروغ مل رہا ہے۔
دو ہزار بیس میں سرحدی جھڑپوں کے بعد چین اور بھارت کے تعلقات تلخی کا شکار ہوگئے تھے، مگر پچھلے سال کازان میں ہونے والی ملاقات میں دونوں ممالک نے تعلقات کو نئے سرے سے استوار کرنے کا عندیہ دیا۔
چینی صدر نے کل کمبوڈیا کے وزیر اعظم ہون مانیت اور مصری وزیراعظم مصطفی مدبولی سمیت دیگر رہنماؤں کا استقبال کیا۔ پیوٹن بھی کانفرنس سے پہلے تیانجن پہنچنے والے ہیں۔
اس کانفرنس میں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف بھی شرکت کریں گے، جو کل نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ہمراہ چین پہنچے تھے۔ ان کے دورے کا مقصد شنگھائی تعاون تنظیم کی ریاستی سربراہان کے اجلاس میں حصہ لینا ہے، جو 31 اگست سے یکم ستمبر تک جاری رہے گا۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ چینی صدر شی اور دیگر عالمی رہنماؤں سے ملاقات کے متمنی ہیں، اور پاکستان کی جانب سے علاقائی سکیورٹی اور پائیدار ترقی کے فروغ کے عزم کو دہرائیں گے۔ وزارت خارجہ نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان چین تعاون کے حوالے سے متنوع معاملات پر بھی بات چیت کریں گے۔
