مراکش کے ساحلی شہر مولای عبداللہ امغار میں منعقدہ علاقائی میلے کے دوران ایک 13 سالہ نوجوان، بشیر، کے ساتھ اجتماعی زیادتی کا افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ بشیر، جو اپنی معذور والدہ کے لیے پیسے کمانے کے مقصد سے میلے میں گیا تھا، کو نشہ آور دوا دے کر ظلم کا نشانہ بنایا گیا۔
بشیر، جو معمول کے مطابق میلے میں گاڑیاں پارک کروانے اور تھیلے فروخت کرنے کا کام کرتا تھا، اس بار اپنے اوپر ہونے والے مظالم کو برداشت نہیں کر سکا۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق، اُسے تقریباً دس نوجوانوں کے گروہ نے نشانہ بنایا، جن میں سے بعض نابالغ بھی شامل تھے۔
### ہسپتال میں دلخراش طبی معائنہ
بشیر جب نحیف حالت میں اپنے شہر یوسفیہ واپس جانے کی کوشش کر رہا تھا، تو مقامی لوگوں نے اس کی حالت کے بارے میں جان کر اُسے ہسپتال پہنچا دیا۔ مراکش کے ایک ہسپتال میں اس کے ساتھ ہونے والی زیادتی کی تصدیق ہو گئی۔ انسانی حقوق کی مراکشی تنظیم کے کوآرڈینیٹر حامد رعودی کا کہنا ہے کہ “جو کچھ ہم نے ہسپتال میں دیکھا، وہ انتہائی دردناک تھا۔ اگر اس معاملے میں غفلت برتی گئی، تو اسے متاثرہ بچے، اس کے خاندان اور معاشرے کے ساتھ غداری سمجھا جائے گا۔”
### پورا ملک غمزدہ، سوشل میڈیا پر ہمدردی
اس دلخراش واقعے سے پورا مراکش صدمے میں ہے اور لوگوں نے سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگ #AllForBashir کے ذریعے اپنی ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ بشیر نے پولیس کو اپنے بعض حملہ آوروں کے بارے میں تفصیلات فراہم کیں، جس پر پولیس نے پانچ مشتبہ افراد کو، جن میں سے کچھ نابالغ ہیں، گرفتار کر لیا ہے۔
یہ واقعہ نہ صرف مراکش بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ لوگ انصاف کی فراہمی کے منتظر ہیں اور اس قسم کے جرائم کے خلاف سخت کارروائی کی توقع کر رہے ہیں۔
