سپریم کورٹ کے جج جسٹس اطہر مین اللہ نے جمعرات کے روز کہا کہ ملک میں ’ہائبرڈ نظام‘ کی اصطلاح درحقیقت آمریت کی موجودگی کا اعتراف ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئینی حکمرانی کے فقدان کی وجہ سے ملک میں قانون کی حکمرانی کی بجائے اشرافیہ کی گرفت قائم ہے۔
کراچی بار ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس مین اللہ نے کہا، ’’آج لوگ کہتے ہیں کہ ہائبرڈ نظام ہے، یہ دراصل اس بات کا اقرار ہے کہ یہاں آمریت ہے اور آئینی حکمرانی نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ملک کی عدالتوں کی تاریخ پر فخر نہیں کیا جا سکتا اور ان کی نسل نے ملک کو جتنا نقصان پہنچانا تھا، پہنچا دیا۔
جسٹس مین اللہ نے زور دے کر کہا کہ آئین عوام کی مرضی کا اظہار ہے اور اس کا تقاضا ہے کہ کوئی بھی ادارہ یا سیاسی عہدیدار سیاسی انجینئرنگ میں ملوث نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو آئین کے مطابق چلانے کا واحد راستہ نوجوان نسل کے ساتھ مل کر کام کرنا ہے۔
انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا گیا اور حقیقت کو ختم کرنے والے معاشرے تباہ ہو جاتے ہیں۔ جسٹس مین اللہ نے کہا کہ اگر اظہار رائے کی آزادی پر پابندی نہ لگائی جاتی تو ملک تقسیم نہ ہوتا۔
