چین کے صدر شی جن پنگ نے گذشتہ ہفتے دو اہم بین الاقوامی تقریبات کی میزبانی کر کے عالمی سطح پر اپنی مرکزی حیثیت کو مزید مستحکم کر لیا ہے۔ تیانجن میں ہونے والی شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی سربراہی کانفرنس اور بیجنگ میں دوسری عالمی جنگ کی 80 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ فوجی پریڈ کے دوران صدر شی نے تقریباً 30 عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔
ان تقریبات میں روس کے صدر ولادیمیر پوٹن اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان جیسی اہم شخصیات کی موجودگی نے چین کے بڑھتے ہوئے عالمی اثر و رسوخ کو واضح کر دیا۔ ماہرین کے مطابق، چین ان تقریبات کے ذریعے ایک واضح پیغام دے رہا ہے کہ وہ امریکہ کی قیادت میں موجود عالمی نظام کے متبادل کے طور پر ابھر رہا ہے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں ایران، بھارت، کیوبا اور متعدد ایشیائی及افریقی ممالک کے رہنماؤں کی شرکت نے چین کی بین الاقوامی حمایت کو ظاہر کیا۔ اجلاس میں غزہ کی حمایت اور ایران پر یورپی پابندیوں کے خلاف قراردادیں بھی منظور کی گئیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا کہ “میں ولادیمیر پوٹن اور کم جونگ ان کو اپنی گرمجوش سلامتی بھیجتا ہوں، جبکہ آپ امریکہ کے خلاف سازش کر رہے ہیں”۔ تاہم، ماہرین کا خیال ہے کہ ٹرمپ کی تجارتی پالیسیاں دراصل چین کے لیے فائدہ مند ثابت ہو رہی ہیں۔
بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کا چین کا دورہ، جو 2018 کے بعد پہلا دورہ تھا، دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ یہ تعلقات اس وقت بہتر ہو رہے ہیں جب بھارت کو ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے تجارتی پابندیوں کا سامنا ہے۔
فوجی پریڈ میں جدید ترین ہتھیاروں کی نمائش نے چین کی عسکری طاقت کو بھی عالمی سطح پر نمایاں کیا۔ تاہم، کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ یہ فوجی مظاہرہ خطے کے بعض ممالک میں تشویش کا باعث بھی بنا ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں چین کے ساتھ سرحدی تنازعات موجود ہیں۔
ماہرین کے مطابق، چین ان تقریبات کے ذریعے یہ ثابت کرنے میں کامیاب رہا ہے کہ اس کے پاس مغربی ممالک کے علاوہ بھی بین الاقوامی سطح پر متعدد اختیارات موجود ہیں۔ یہ واقعات چین کی خارجہ پالیسی کی کامیابی کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں جو ایک نئی عالمی ترتیب کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
