اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان حال ہی میں ہونے والے دفاعی معاہدے نے دونوں ممالک کے تعلقات کو ایک باقاعدہ شکل دے دی ہے جو پہلے “کچھ حد تک لین دین پر مبنی” تھے۔
خواجہ آصف نے یہ بات صحافی مہدی حسن کو زیتیو کے لیے دیے گئے ایک انٹرویو کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ کوئی ردعمل نہیں بلکہ طویل عرصے سے جاری بات چیت کا نتیجہ ہے۔ ان کا کہنا تھا، “یہ قطر پر اسرائیلی حملے کا ردعمل نہیں ہے، کیونکہ اس پر کافی عرصے سے بات چیت ہو رہی تھی۔ ہو سکتا ہے اس واقعے نے عمل میں تیزی ضرور پیدا کی ہو، لیکن معاہدہ پہلے ہی راستے پر تھا۔”
انٹرویو کے دوران جب پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں اور سعودی عرب کے تحفظ کے حوالے سے سوال کیا گیا تو وزیر دفاع نے تفصیلات میں جانے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ دفاعی معاہدے عوامی سطح پر عام طور پر زیر بحث نہیں لائے جاتے۔ انہوں نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ایٹمی بم خریدنے کے حوالے سے مبینہ بیان کو “سنیسنیشنل” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا اور کہا، “ہم ایٹمی ہتھیار فروخت کے کاروبار میں نہیں ہیں، ہم بہت ذمہ دار قوم ہیں۔”
**پاک چین تعلقات پر امریکہ کے اثرات سے انکار**
ایک اور سوال کے جواب میں خواجہ آصف نے پاکستان کے امریکہ کے ساتھ بہتر ہوتے تذات کے پس منظر میں چین کے ساتھ تاریخی تعلقات پر کسی قسم کے منفی اثرات سے انکار کیا۔ انہوں نے کہا کہ چین کا رشتہ وقت کی کسوٹی پر پرکھا ہوا ہے اور وہ ایک قابل اعتماد اتحادی ہے۔ ان کا کہنا تھا، “ہماری اسلحہ کی ایک بڑی مقدار چین سے آتی ہے اور ہمارا دفاعی تعاون پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو رہا ہے۔”
وزیر دفاع نے واضح کیا کہ پاکستان کی جغرافیائی قربت اور چین کی قابل اعتماد شراکت داری کی وجہ سے اس کا مستقبل کا استحکام چین کے ساتھ وابستہ ہے۔ انہوں نے کہا، “چین ہمارا پڑوسی ہے، ہم جغرافیہ اور مفادات کا اشتراک رکھتے ہیں۔”
واضح رہے کہ 17 ستمبر کو وزیر اعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے درمیان ریاض میں “اسٹریٹجیک باہمی دفاعی معاہدہ” پر دستخط ہوئے تھے، جس کے تحت دونوں ممالک پر کسی بھی حملے کو دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
