پاکستان میں ہر سال سروائیکل کینسر کے تقریباً 5,000 نئے مریض سامنے آتے ہیں جن میں سے 64 فیصد کی موت واقع ہو جاتی ہے۔
پاکستان میں ہیومن پیپیلوما وائرس (ایچ پی وی) ویکسین کو قومی معمول کے حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام میں شامل کیا جا رہا ہے اور پنجاب، سندھ، اسلام آباد اور آزاد کشمیر میں پہلی ویکسینیشن مہم 15 سے 27 ستمبر تک جاری ہے۔ اس دوران سوشل میڈیا پر طرح طرح کی افواہیں اور سازشی نظریات پھیلائے جا رہے ہیں۔
ایچ پی وی ویکسین دراصل انسانی پیپیلوما وائرس کے انفیکشن سے بچاؤ کے لیے لگائی جاتی ہے جو سروائیکل، وَلور، ویجائنل، مقعد اور سر و گردن کے کینسر کے علاوہ پیش خیمہ کینسر کی رسولیاں بھی پیدا کر سکتا ہے۔ آغا خان یونیورسٹی کے ایک مطالعے کے مطابق 80 فیصد سے زیادہ جنسی طور پر متحرک افراد زندگی میں کسی نہ کسی وقت ایچ پی وی کا شکار ہو سکتے ہیں۔
پاکستان اب تقریباً 150 ممالک میں شامل ہو گیا ہے جو ایچ پی وی ویکسین تجویز کرتے ہیں۔ افغانستان کے علاوہ، پاکستان جنوبی ایشیا کا آخری ملک ہے جس نے ایچ پی وی ویکسینیشن پروگرام شروع کیا ہے۔ انڈونیشیا، ایران سمیت تمام بڑے مسلم اکثریتی ممالک پہلے ہی یہ قدم اٹھا چکے ہیں۔
عالمی سطح پر ہر سال سروائیکل کینسر کے 660,000 میں سے 95 فیصد کیسز ایچ پی وی کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ ہر دو منٹ بعد ایک خاتون اس قابلِ علاج بیماری سے مر جاتی ہے اور 90 فیصد اموات غریب اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں ہوتی ہیں۔
سروائیکل کینسر کی وجہ بننے والے ایچ پی وی وائرس کی دریافت پر 2008 میں ڈاکٹر ہیرالڈ زُر ہاؤزن کو نوبل انعام ملا تھا، جس کے بعد ایچ پی وی ویکسین تیار ہوئی۔
سائنسی شواہد بتاتے ہیں کہ اگر 9 سے 14 سال کی لڑکیوں کو یہ ویکسین لگائی جائے تو یہ سروائیکل کینسر سے 90 فیصد تک تحفظ فراہم کرتی ہے۔
پاکستان میں استعمال ہونے والی ویکسین کا نام سی کولِن ہے جو چین میں تیار ہوتی ہے اور گیوی الائنس کے ذریعے فراہم کی جاتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے اکتوبر 2024 میں اسے اپنی منظوری دے دی تھی۔ یہ ایک ڈوز والی ویکسین ہے جس کی افادیت دو ڈوز والی ویکسین جتنی ہی ثابت ہو چکی ہے۔
فی الحال پاکستان میں ویکسین کی فراہمی کا 95 فیصد خرچ عالمی ادارے اٹھا رہے ہیں جبکہ 5 فیصد حکومت پاکستان دے رہی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ پاکستان کو اس کی مکمل ذمہ داری خود اٹھانی ہوگی۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ خواتین میں انیمیا، مادری اموات اور بریسٹ کینسر جیسے مسائل پر توجہ دینے کے ساتھ ساتھ سروائیکل کینسر جیسی مہلک بیماری سے بچاؤ کے لیے ویکسینیشن بھی انتہائی ضروری ہے۔
