امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور سینیٹرز کے درمیان متنازعہ بیان میں تضاد
واشنگٹن — امریکی سینیٹرز کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت یافتہ یوکرین امن منصوبہ درحقیقت روس کی “خواہشات کی فہرست” ہے، جبکہ وزیر خارجہ مارکو روبیو اسے امریکی تخلیق قرار دے رہے ہیں۔
سینیٹرز کے الزامات
ہیلی فیکس انٹرنیشنل سیکورٹی فورم میں شرکت کے دوران ریپبلکن اور ڈیموکریٹک دونوں جماعتوں کے سینیٹرز نے 28 نکاتی منصوبے کو روسی جارحیت کے لیے انعام قرار دیا۔ سینیٹر جین شاہین نے کہا، “یہ ایک روسی تجویز ہے جس میں بہت سی ایسی باتیں ہیں جو مکمل طور پر ناقابل قبول ہیں۔”
روبیو کا مؤقف
وزیر خارجہ مارکو روبیو نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں تصدیق کی کہ “امن تجویز امریکہ نے تیار کی تھی” اور یہ کہ “یہ روسی اور یوکرینی دونوں فریقوں کے مشورے پر مبنی ہے۔”
ٹرمپ کا الٹی میٹم
صدر ٹرمپ نے جمعے کو کہا کہ یوکرینی صدر وولوڈیمیر زیلینسکی کے پاس منصوبے کو منظور کرنے کے لیے جمعرات تک کا وقت ہے۔ انہوں نے کہا، “انہیں یہ پسند آنا چاہیے، ورنہ شاید انہیں لڑائی جاری رکھنی چاہیے۔”
یورپی اتحادیوں کی تشویش
جرمنی، فرانس اور برطانیہ کے سیکورٹی اہلکار آج جنیوا میں یورپی یونین، امریکہ اور یوکرین کے ہم منصبوں کے ساتھ ملاقات کریں گے۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا کہ “بہت سی چیزیں صرف ایک امریکی تجویز نہیں ہو سکتیں، جس کے لیے وسیع مشاورت درکار ہے۔”
منصوبے کے متنازعہ نکات
- کریمیا، لہانسک اور ڈونیٹسک کو روسی علاقہ تسلیم کیا جائے
- یوکرین کو نیٹو میں شمولیت کے منصوبے ترک کرنے پڑیں گے
- یوکرینی فوج کی تعداد 6 لاکھ تک محدود ہوگی
- جنگی جرائم کے مقدمات خارج کرنے پڑیں گے
- 100 دن کے اندر انتخابات منعقد کرانے ہوں گے
زیلینسکی کا ردعمل
یوکرینی صدر نے منصوبے کو فی الحال مسترد نہیں کیا ہے، لیکن انہوں نے منصفانہ سلوک پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ واشنگٹن اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ “پرسکون طریقے سے کام” کریں گے۔
جنیوا مذاکرات
آج جنیوا میں ہونے والی ملاقات میں یورپی اتحادی امریکہ سے اپنے تجویز کردہ امن منصوبے میں ترمیم کرنے پر زور دیں گے۔ یوکرین کے اتحادیوں کا کہنا ہے کہ موجودہ مسودے میں “اضافی کام” درکار ہے۔
ماسکو پر ڈرون حملہ
اسی دوران، یوکرینی ڈرونز نے ماسکو ریجن میں ایک بڑی پاور سٹیشن کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی۔ مقامی گورنر نے تصدیق کی کہ تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے۔
